Friday, May 24
Shadow

معظمہ نقوی کی ” آخری بارش”، مبصر: پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب 

مبصر :- ڈاکٹر پروفیسر محمد ایوب  ۔ فیصل آباد
اللہ رب العزت نے دنیا میں بہت سے لوگوں کو شعر کہنے کی  صلاحیت عطا کی ہے ہر دور میں ایسے لوگوں نے ادب کی ترقی اور ا میری   میں اضافہ کی زبردست کوشش کی ہے ۔لیکن اچھا شعر کہنے کا گُن گنے چنے شعراۓ کرام میں ہی پایا جاتا ہے اسی لیے ادب میں چند شعراء کرام کا ذکر ہوتا ہے ۔اور بڑی گنتی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس کی سب سے بڑ ی وجہ مطالعہ ,ریاضت ,مشاہدہ اور احساس تجربہ اور کچھ سلیقے سے کہہ لینے کی جستجو کا شدید فقدان ہے ۔کیونکہ آج کےدور کے شاعر حضرات کچھ نظمیں اور غزلیات لکھ کر اپنے آپ کو استاد الشعراء میں شمار کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اصلاح لینا گوارا نہیں کرتے ۔جس کی وجہ سے وقتی طور پر ان کو شہرت تو نصیب ہوتی ہے مگر جلد ہی ان کی شہرت زوال پزیر ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ مگر جہاں تک تعلق ہے معظمہ نقوی کے تازہ مجموعہ کلام “آخری بارش”کا  اس کے بغور مطالعہ سے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مزکورہ بالا تما م خصوصیات ان کی شاعری میں بدرجہ اَتم موجود ہیں ۔
معظمہ نقوی کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو روایت سے جڑے ہونے کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضرکے جدید تقاضوں اور رومان سے کماحقہ آگاہی رکھتا ہے ۔اور انہیں خوب صورت انداز میں اپنی شاعری میں برتنا جانتا ہے روایتی انداز میں نقوی صاحبہ نے اپنے اس مجموعہ کلام کو حمدِ باری تعالیٰٖ سے شروع کیا ہے کہتی ہیں کہ

 وہ ذات جلیل , قدیر ,رحمان,ر حیم ,العلی و عظیم ہے اور کوئی بھی اُس ذات تک نہیں پنچ سکتا۔

اسم ہیں تیرے
 سب جلیل و قدیر
العلی و عظیم
تیری ذات صراطِ مستقیم
تو ہے فقط الرحمن و الرحیم
 تو ذوالجلال ہے
جہاں تک نہ پہنچا
کبھی کوئی خیال ہے   
              (ص 27)
ماں دنیاۓ ادب کا وہ واحد موضوع ہے  جس پر دنیا کے ہر ادب میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھا گیا ہےاور لکھا جاتا رہے گا نقوی صاحبہ لکھتی ہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور اسے رب کے جیسا روپ کہا جاتا ہے

جنت جس کے پاؤں تلے ہے
ٹھنڈک جس کی چھاؤں تلے ہے
جو وہ پاس نہیں ہے تو پھر
بے مقصد ہے جیون سارا
اُس جیسا ہے کون سہارا
اُس کو سارے ماں کہتے ہیں
رب کے جیسا روپ ہے وہ تو
سرما کی سی دھوپ ہے وہ تو
            ص( 28)
کہا جاتا ہے کہ وطن کی محبت انسان کے ایمان کا حصہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر لکھنے والے نے اپنے وطن کی عظمت کے گیت لکھ کر دھرتی سے اظہارِ محبت کیا ہے آپ نے وطن کی عظمت کا قصیدہ یوں لکھا ہے
اے میرے وطن
اے پاک وطن
تعبیر ہے سچے خواب کی تُو
علامہ کی تحریر ہے تُو
اور قائد کی تصویر ہے تُو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ص (29)
کسی بھی شاعر کی شاعری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ شاعر نے اپنے اشعار میں کتنی حقیقت پسندی کو بیان کیا ہے کیو نکہ اس سے قاری کو شاعر کی قوتِ مشاہدہ ,تجزیہ کرنے کی صلاحیت اور متعلقہ حالات و واقعات کو اشعار میں بیان کرنے کے فن کا پتہ چلتا ہے کیونکہ معظمہ صاحبہ زبردست قوتِ مشاہدہ کی مالک ہیں اس لیے آپ نے کئ مقامات پر زبردست انداز میں حقائق کو بیان کیا ہے کہتی ہیں کہ چاہے آپس میں جتنی بھی گہری محبت کیوں نہ ہو دوریاں ایک دوسرے کو اجنبی بنا دیتی ہیں ۔

شہرِ فرقت میں اب بھی
چاہت عشق زیادہ ہے
سچا اپنا ہر ارادہ ہے
لیکن وقت نے اس چاہ میں
ایک حدِ فاصل کھینچ دی ہے
جس نے ہمیں کر دیا ہے ج ُجدا
یہی وجہ ہے جو پردیسی ٹھہرے تُم
اور اجنبی ٹھہرے ہم
     ص (83)
زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں لیکن کاروانِ حیات ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے لوگ قافلوں کا حصہ بنتے اور  بچھڑ تے رہتے ہیں ۔اور یہ سلسلہ  تا ابد اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔

جاتے جاتے یہ
بول رہی ہو
کل ہم نہ ہوں گے
تو کیا ہوا
طلوعِ سحر اک
اور ہو گا
ارمانوں کا دیپ
یوں ہی جلے گا
سفر یہ تو ابد تک
چلے گا
       ص(86).
انسانیت کے مسیحا اور معاشرتی اصلاح کرنے والے افراد کو ہر دور میں ناقدری کا سامانہ کر نا پڑا ہے یہ ایک حقیقت بھی ہے اور انسانی بے مروتی کا نوحہ بھی ۔
لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔

وہ جو احساس دل میں رکھتے ہیں
لوگ ان کو بہت ستاتے ہیں
ان کو ہر لحظہ آزما تے ہیں
ہر قدم پر انہیں رلاتے ہیں
ہر جگہ پر انہیں غریبی کے کھل کے طعنے سُناۓ جاتے ہیں
حق کا دیتے ہیں درس وہ جب بھی
ان کو جھٹلایا جاتا ہے نقوی
ہے ادب کا بہت بلند مقام
دُکھ تو یہ ہے کہ سب ادیبوں پر
ظلم کے تیر پھینکے جاتے ہیں
تب تو مشہور ہونے سے پہلے
ہو کے گمنام یہ
 مر جاتے ہیں
      ص ( 63 )
معاشرتی و سماجی ترقی کے لیےامن وامان کی بہتر صورتِ حال کے ساتھ اخلاقی اقدار کااحیا ء بھی بہت ضروری ہے کیونکہ  کسی معاشرے کی ترقی کے لیے اس کے باسیوں کا ضابطہ اخلاق کا پابند ہونا بہت ضروری ہوتا ہے مگر موجودہ دور میں جو نفسا نفسی پھیل چکی ہے اور لاقانونیت کا ہر طرف راج ہے اُسے دیکھ کر انسان تو کیا جانور بھی تلملا اُٹھے

وہ دونوں تھے پیار میں پاگل
بَن میں ملنے آتے تھے وہ
لیکن اب کچھ دور ہیں دونوں
سُن کر اُجڑ ی پریت کا نوحہ
سارے پنچھی کہنے لگے یہ
ہاۓ یہ کیسا موسم آیا
نہ ہونٹوں پر
 پریم کی باتیں
نہ چاہت کی میٹھی راتیں
       ص(36)
نقوی صاحبہ نے حسن و عشق اور ہجر و وصال کی کیفیات کو مختلف زاویوں سے یوں بیان کیا ہے کہ پڑ ھتے ہو ۓ حیرانی تو ہوتی ہے لیکن مزا بھی آتا ہے وہ چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں رومان کو اتنی روانی اور آسانی سے کہہ جاتی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے

تمھیں سمجھنا بھی  حد سے مشکل
تمھیں پرکھنا بھی حد سے مشکل
جو تم نے مجھ پر رفاقتوں کے حصار کھینچے
وہ بے ثمر ہیں
تمہاری اُلفت کے سب قرینے پرکھ کے
میں اس نتیجے پہ آ کے پہنچی
کہ اس زمانے میں تم ہی میرے
بھٹکتے جیون کے رہنما ہو
کہ میری ایک بے نتیجہ خواہش کا تمُ
 مکمل ایڈریس ہو ہمدم
         ص(53)
انسان لاکھ کوشش کے باوجود عروجِ عشق کی منزل حاصل نہیں کر سکتا اسی لیے نقوی صاحبہ نے محبت کے جزبے کو ادھورا عشق قرار دیا ہے ۔

لاکھ جی جلانے سے
دل پہ زخم کھانے سے
اشک خوں بہانے سے
ذندگی گنوانے سے
کب یہ پورا ہوتا ہے ؟
عشق ادھورا ہوتا ہے
کب یہ پورا ہوتا ہے؟ 
      ص(67)
عشق میں گرفتار عاشق کو جدائی کے صدمات بھی سہنے پڑ تے ہیں اور ہجر میں مبتلا ہوۓ بغیر عشق مکمل ہی نہیں ہوتا محبوب سے دوری میں عاشق کے دل کا گلستان ویران اور جیون بے رنگ دکھائی دیتا ہے تن من کا ہوش نہیں رہتا نگاہیں ہمیشہ محبوب کی منتظر رہتی ہیں ۔
دل کا گلستان ویران ہے
مرجھا ۓ ہوۓ ہیں خواب سارے
بے رنگ جیون کی داستاں ہے
پوچھ مت میری زندگی کا حال
میرے ارمان اور میری زلفیں پریشان ہیں
میری سُونی سُونی بانہیں تمہاری منتظر ہیں
میری نگاہیں تمھاری منتظر ہیں
      ص (40)
ہر طرف اُداسی چھانے سے چہرے پربھی اُداسی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگۓ ہیں ۔اے محبوب  وفا کے وعدے یاد کرواور بتاؤ سچا عاشق کون ہے؟ 

بِن تیرے اب تو ساتھی
ہر سو چھائی اُداسی دیکھوں
چہرہ بھی اپنا باسی دیکھوں
وعدے وفا کے یاد کرو تُم
بچھڑ کر اپنے چاند سے نقویؔ
تم ہی بتاؤ ہم کو اب تو
کون ہے اپنا کون ہے تمہارا؟
      ص (72)
جدائی نے خود کلامی پر مجبور کر دیا ہے ایسی صورت میں وہ بات جو میں زبان پر لانا نہیں چاہتی خود بخود زبان پر آجاتی ہے اور دنیا کو میرے دل کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے اگر میں چپ رہوں تو آنسو ضبط کے تمام بندھن توڑ کر بہہ نکلتے ہیں تب بھی لوگ مجھ سے رونے کی وجہ دریافت کرتے ہیں۔
بعض اوقات
 خود سے گفتگو کرتے وقت
ایسے الفاظ بھی زبان پر آجاتے ہیں
جنہیں میں اپنی گفتگو کا حصہ نہیں بنانا چاہتی !
اچھا “نقویؔ” یہ تو بتاؤ ؟
آج خود سے گفتگو کرتے وقت
آنکھوں میں آنسو کیوں اُتر آۓ ہیں ؟
نہ جانے آج وہ مجھ کو بے ساختہ کیوں یاد آۓ ہیں ؟
        ص(71)
اس لیے اے محبوب اب ساری ساری رات انتظار میں جاگنا مشکل ہو گیا ہے بس اب لوٹ آؤ کہ اب محبت کے نقوش مٹنے کو ہیں

میرے رفیق !
تمہیں یاد کرکے جاگنا پڑتا ہے صبح تک
کیسی لگن ہے جو پچھلے پہر تک ختم نہیں ہوتی
یہ کیسا دُکھ ہے جو مٹتا نہیں
یہ کیسا درد ہے جو گھٹتا نہیں
پس لوٹ آؤ کہ یادوں کے راستوں میں
تمہارے سارے نقش مٹتے جا رہے ہیں
        ص(92)
نقوی صاحبہ نے بہت سے اشعار میں کمال کی منظر نگاری کی ہے پڑھتے ہوۓ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔بہار کی آمد کامنظر یوں بیان ہوتا ہے

اے میرے پردیسی ساجن !
دیکھو بہار لوٹ آئی ہے
ہر پھول مسکرایاہے ہر کلی مسکرائی ہے
 کنول نے تالاب میں لی انگڑائی ہے
پرندے کہتے ہیں کہ بہار آئی ہے
ہمارے دیس میں بسنت نے دھوم مچائی ہے
سرسوں کے پیلے پھول لہرا رہے ہیں کھیتوں میں
جنگل میں بھی ہریالی آئی ہے
پتا پتا بجا رہا تال ہے
      ص( 42)
رات کی تاریکی اور خاص کر چاندنی رات کا عاشقوں کی طبعیت پر کیا اثر ہوتا ہے اس سے بہتر عکاسی ہو ہی نہیں سکتی ۔

اکثر چاند راتوں میں
ویران راہگزاروں پہ
چاندنی کی بارش میں
جب پیڑ بھیگ جاتے ہیں
تو خامشی کے ہونٹوں سے
ایک آواز آتی ہے
رات گنگناتی ہے
        ص(84)
معظمہ نقوی کی چشمِ بصیرت و بصارت دونوں پوری طرح وا ہیں اِن کے ہاں موضوعات کی بھی کمی نہیں انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو روایت  سے جوڑا بلکہ اسی روایت کی پاسداری کرتے ہوۓ نۓ راستوں کو بھی کھوجا ہے  وہ کسی کی پیروی کرتے نظر نہیں آتی ہیں بلکہ اپنے ڈھنگ سے نۓ انداز اپنانے اور نۓ امکانات پیدا کرنے کی دُھن میں ہیں ۔مجھے اُمید ہے کہ ان,کی یہ کتاب ادبی حلقوں میں بھر پور پزیرائی حاصل کرے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact