Sunday, May 26
Shadow

حفص نانی   کی تصنیف” کامیابی کا نشہ “تاثرات: آرسی رؤف

مصنفہ :حفص نانی
تاثرات:آرسی رؤف
پبلشر:پریس فار پیس پبلیکیشز 
 بعض  تحاریر انسان کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہیں ۔  کبھی کبھار تجربات کا نچوڑ اور چشم دید واقعات کا عمدہ بیان ۔مختلف واقعات کو سہل زبان میں موتیوں کی طرح پرو کر اسے اس طرح جگمگاتی تحریروں کی صورت میں  قرطاس کی زینت کر دینا کہ پڑھنے والا ، اس کے اتار چڑھاؤکو نہ صرف محسوس کرے بلکہ محظوظ بھی ہو تو اس طرح کی خصوصیت حفص نانی میں موجود ہے۔
 کتاب کے صفحات بارہ سو سے کچھ زائد ہی ہیں۔ 
“کامیابی کا نشہ” حفص نانی صاحبہ کی اولین کتاب ہے ۔
بتیس آپ بیتیاں کہوں یا کہانیاں،دونوں ہی صورتوں میں  کاوشات لائق صد تحسین ہیں۔

۔اولین کہانی بعنوان “توہین” بیانیہ انداز لئے ہوئے ہے ۔اسے پڑھ کر بے اختیار مجھے ہمارے زمانے میں پڑھائی جانے والی انٹر کی انگریزی کتاب میں درج تحریر

My Bank account

 یاد آئی۔ البتہ نئی جہت دل کو بہت بھائی۔اردو زبان کو دفتری زبان تو کیا قرار دیا جاتا اسے خود دفتروں سے ہی خارج کر دیا گیا ہے۔اس کے حق میں

 بینک انتظامیہ کے  سامنے احتجاج ریکارڈ کروانا اور پھر غلطی کی نشاندہی کر کے اس کی اصلاح پر گامزن رہنا ہی بڑے دل گردے کا کام ہے۔جو یہ کر جائے اس کو سلام،جو اس کی خواہش کرے وہ بھی لائق صد تحسین۔
دوسری کہانی، جس سے سرورق بھی معنون ہے،  میں استعاراتی  طور پر شیخیاں بھگارنے،ناشکرا پن اور قناعت پسندی چھوڑ کر اور کی جستجو میں جو نقصان  بھرنا پڑتا ہے اس  کی جانب نشاندہی کرائی گئ ہے۔   
“کچن “کو  پڑھ کر مجھے اپنے بھی کئی تجربات یاد آئے جن میں سے ایک ریڈیو سے ترکیب سن کر  تربوز کے چھلکوں کا سالن تیار کر نا تھا۔پھر اس کے بعد اس سالن کے ساتھ ساتھ ہمارے ساتھ کیا ہوا،یہ پھر کبھی سہی۔ ویسے میری ناقص رائے کے مطابق اس کہانی کا نام کچن کی بجائے کڑی پکوڑا ہونا چاہئیے تھا۔
“جن پہ تکیہ” ، کسی  علامتی افسانے کی صورت مصنفہ کے تخیل اور تحریر میں روانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کہانی کو پڑھنے کے بعد عنوان کے چناؤ پر بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔
البتہ  اسے پڑھتے ہوئے قاری ہمہ وقت صاف چھپتےبھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کی کیفیات سے دوچار رہتا ہے، اور یہی قاری کو تحریر سے جوڑے رکھنے کا اکسیر نسخہ ہے۔
اس طویل تحریر کے بعد جب مختصر تحریروں کا  سلسلہ شروع  ہوا تومجھے  نہیں لگتا ان کو فقط  یک بار پڑھنا کافی ہو گا۔
 ان تحریروں میں
کلفت کی الفت،
بڑے بے آبرو ہوکر،
تندرستی یزار نعمت یے،
سفر کا سامان،
دلہن بسیں،
پنکھڑی گل لالہ کی،
میں تمہیں پھر ملوں گی،
جنگل کا راجہ،
حنا کی خوشبو،
ریٹائرمنٹ کے بعد،
محبت کا سفر،
کل کس نے دیکھی ہے،
ابتدائی طبی امداد،
ایک مزے دار ٹرپ،
ہم سب ساتھ ہیں،
شمع سے شمع جلے،
جھوٹی صبح،
ایک چھوٹا سا آنسو،
بس ایک تو ہی،
رقص محبت،
گاؤں کا آسماں،
موسیقیت اور سر کے اچھوتے میدان،
انمول محبت،
میں بھی عورت ہوں نا !
وقت کی رفتار،
کیا ہمارا  کوئی حق نہیں؟،
ننھے فرشتے۔
یہ سبھی تحاریر بیک وقت لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں  کی صورت بھی محسوس ہوئیں اور کہیں کہیں مصنفہ کے ناسٹیلجیا کا اظہار بھی۔کہیں وہ ایک سادہ لوح گھریلو خاتون بن کر ابھریں اور کہیں ان کی تحریر سے دعوت فکر دیتے حکمت کے موتی چھلکتے دکھائی دئے۔بہت سے جملوں کی برجستگی متاثر کن لگی ؛ جبکہ  بعض جملوں میں ان کی بزلہ سنجی عروج پر نظر آئی۔
مصنفہ طنز کے نشتر چلانے کی بجائے شائستہ لہجے میں اپنا پیغام بطریق احسن پہچانے کا ہنر خوب جانتی ہیں۔
طویل تحریروں کی نسبت مختصر تحریریں حرف و معنی کے کئی در کھولتی ہیں،جو کہ نہ صرف وقت کی ضرورت ہیں بلکہ معاشرے کے کئی  سیاہ چہرے انتہائی سہل انداز میں بے نقاب کرتی ہیں۔
“میں بھی عورت ہوں نا! ایسی ہی ایک تحریر ہے۔دوسروں کے فرائض اور اپنے حقوق کی جنگ میں ہم اپنی تخلیق کا سبب تک بھول جاتے ہیں
” اپنی ذات میں جھانکنے پر آمادہ کرتی  تحریر
“کیا ہمارا کوئی حق نہیں۔”کو پڑھ کر ان کے تخیل کی  عمدگی کی داد نہ دینا بڑی نا انصافی ہوگی۔ 
ہر تحریر ہی متنوع اور قابل ذکر ہے،جن کو کئی بار پڑھ کر،ان  پر بشرط زندگی فرداً فردا ً
اظہار رائے کا ارادہ ہے
؛تاہم کوئی ایک بھی ایسی تحریر موجود نہیں جسے پڑھ کر ہلکا سا بھی شائبہ ہو کہ مصنفہ کی یہ پہلی تصنیف ہے۔
اس خوبصورت تخلیق کی اشاعت پر ادارہ یعنی پریس فار پیس ،مصنفہ حفص نانی
صاحبہ تو مبارک باد کے
مستحق ہیں ہی،قارئین کو بھی مبارک ہو جنہیں ایسی پیاری تخلیق  پڑھنے کو میسّر آئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact