Friday, April 19
Shadow

کتاب؛”ننھا سلطان تبصرہ نگار :انگبین عروج

کتاب؛”ننھا سلطان تبصرہ نگار :انگبین عروج

تبصرہ نگار :انگبین عروج
محترمہ شمیم عارف صاحبہ سے کون واقف نہیں۔آپ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔نثر اور نظم دونوں اصناف پر طبع آزمائی کرتی ہیں۔ادبی حلقوں میں شمیم عارف صاحبہ کی وجہ شہرت ان کا سفرنامہ حج “عشق کی نگری” بنا،جسے آپ نے ۲۰۱۷ میں حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد قلم بند کیا۔اس کے علاوہ ۲۰۱۹ میں آپ کی شاعری پر مشتمل مجموعہ “ابھی ہم راہ گُزر میں ہیں”،نے بھی ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔
زیرِ مطالعہ کتاب “ننھا سلطان” ترک ماں بیٹے کی زندگی پر مشتمل کہانی پر ایک ناولٹ ہے۔مصنفہ محترمہ شمیم عارف صاحبہ کے مطابق یہ ایک سچی داستان ہے۔
اس کتاب کے خوبصورت سرورق پر ایک معصوم سے کمسِن بچے کی تصویر دیکھ کر مجھے پہلے پہل محسوس ہوا کہ یہ کہانی بچوں کے لیے لکھی گئی ہے لیکن اس کتاب کو بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہوتے دیکھا تو اس کتاب کو پڑھنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔
محترمہ شمیم عارف نے ایک پیارے اور معصوم ترک بچے جس کا نام سلطان ہے،کی اوائل عمر میں اُس پر گزرنے والے مصائب کا ذکر کیا ہے۔اس کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ننھے سلطان کی والدہ ترکیہ اور والد پاکستان سے ہیں۔سلطان کی پیدائش بھی پاکستان میں ہی ہوئی لیکن سلطان کی والدہ ترکیہ ہونے کی بِناء پر پاکستان کی زبان و ثقافت میں ڈھل نہیں سکیں اور سلطان کے والد کے بوجوہ ملازمت فرانس چلے جانے کے بعد اُن سے ایک غلط فیصلہ سَرزد ہو گیا۔وہ ننھے سلطان کو فقط ایک سال کی عمر میں پاکستان اور دادا دادی سے دور ترکیہ لے کر چلی گئیں اور سلطان کے والد کو خبر ناراضگی کے خوف سے مطلع بھی نہ کیا۔سلطان کے والد کو جب یہ خبر ملی تو ان کے لیے یہ کسی صدمے سے کم نہ تھی۔اس عرصے میں سلطان کے والد اور والدہ کے مابین کوئی رابطہ نہ ہوا اور سلطان کے والد دوسری ملازمت کے مل جانے پر براستہ سمندر جرمنی کے لیے روانہ ہوۓ،اس امیدِ واثق کے ساتھ کہ وہاںکچھ دنوں میں سیٹل ہوتے ہی پاکستان آ کر والد اور والدہ سے بھی ملیں گے اور اپنے بیوی بچوں سے رابطہ کر کے انہیں اپنے ساتھ جرمنی لے جائیں گے لیکن درحقیقت یہ ممکن نہ ہوا اور جرمنی کے سفر وہ ایک حادثے کا شکار ہو گئے۔ان کی موت کی خبر ان کے بزرگ والدین پر تو قیامت بن کر ٹوٹی ہی،ساتھ ہی ننھے سلطان کی والدہ پر بھی ایک قیامت گزر گئی۔
جو لوگ اس ناولٹ کا مطالعہ کر چکے ہیں انہیں یقیناً میرا تبصرے میں کہانی کا ابتدائی نقشہ کھینچنا بے مصرف لگے گا لیکن یہاں یہ بتاتی چلوں کہ جن لوگوں نے یہ ناوِلٹ نہیں پڑھا اور میری طرح وہ بھی سرورق سے اس کہانی کی روح کا اندازہ نہیں لگا پا رہے انہیں یہ ناوِلٹ ضرور پڑھنا چاہیے کیوں کہ میں نے کہانی کا محض ایک حِصّہ مختصراً بیان کیا ہے۔اس کہانی مین جو اصل موڑ آتا ہے،اُسے پڑھ کر آپ بھی میری طرح حیران رہ جائیں گے۔
شمیم عارف صاحبہ کو پڑھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ ہے لیکن قدآور مصنفین کے تحریر کردہ چند صفحات پڑھ کر ہی ان کی ادبی قابلیت کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔کہانی کی روانی میں قاری بہتا چلا جاتا ہے۔جذبات،احساسات،رشتوں کی اہمیت کی چاشنی سے بھرپور حقیقی کہانی،ایک ننھے معصوم بچے کا بچپن یتیمی کی نذر ہو جانا اور کم سِنی میں ہی پہ در پہ حالات کی ستم ظریفی اور ناتواں کندھوں پر بے جا دُکھوں کا بار آپ کو کئی مرتبہ اشک بار کر دے گا۔جلد بازی میں بِنا سوچے سمجھے لیا جانے والا فیصلہ کس طرح نہ صرف آپ کے لیے عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے بلکہ آپ کے پیاروں کے لیے بھی مسلسل اذیت کا باعث بن جاتے ہیں۔ایسا ہی ایک فیصلہ ننھے سلطان کی والدہ نے پاکستان کی زبان و ثقافت کو سمجھنے میں درپیش مشکلات کی بِناء پر لیا چونکہ ان کا تعلق ترکیہ سے تھا اور جلدبازی میں ننھے سلطان کے ساتھ  پاکستان چھوڑ کر ترکیہ جانے کا فیصلہ ان کے لیے عمر بھر کا پچھتاوا بن گیا البتہ کہانی کا اختتام خوش آئند ہے اور قارئین کے لیے نہایت متاثر کُن رہے گا۔
حقیقی کہانیوں میں قارئین کے لیے دلچسپی کا عنصر عموماً کم پایا جاتا ہے کیوں کہ ان میں افسانوی ملمع کاری کا استعمال کم ہی کیا جاتا ہے لیکن “ننھا سلطان”کی اس سچی داستان میں نہ صرف لمحہ بہ لمحہ کروٹ لیتے موڑ اس کہانی میں قاری کے لیے دلچسپی قائم رکھنے کا باعث بنتے ہیں بلکہ مصنفہ آپ کو اس مختصر سے ناولٹ میں ترکیہ کے سفر پر بھی ساتھ لیے چلتی ہیں۔ترکیہ کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت،قسطنطنیہ کی فتح اور وہاں کی خوبصورت مسجد “آیا صوفیہ” کی تاریخ جو گو کہ چند ایک صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس قدر وضاحت سے بیان کی گئی ہے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔
اِس کتاب کے اختتامی صفحات پر محترمہ شمیم عارف کی بچوں کے گیے لکھی گئی چند خوبصورت نظمیں بھی شامل ہیں جنہیں پڑھ کر اُس کتاب کا مزہ یقیناً دوبالا ہو جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact