Sunday, May 26
Shadow

احمد رضا انصاری کی “امانت کی واپسی”، تبصرہ:  عافیہ بزمی

تبصرہ نگار: عافیہ بزمی

احمد رضا انصاری کو میں نے پہلی بار اس وقت پڑھا جب کل ان کی کتاب”امانت کی واپسی“ موصول ہوئی۔ یہ مدتوں بعد میرے ہاتھ میں بچوں کے ادب  کے حوالے سے آنے والی کتاب تھی ۔خوبصورت سرورق سے سجی  کتاب کو بے اختیار ہو کر جب کھولا تو یوں لگا ایک وقت کے بعد پھر سے میں اپنے بچپن میں جی رہی ہوں جب اصلاحی،اخلاقی اور سبق آموز تحریروں سے سجی کتاب ہاتھ میں أتے ہی یہ دھن ہوتی تھی کہ بس آج ہی سب پڑھ ڈالیں گے۔
کتاب کا بھی اپنا ہی نشہ ہوتا تھا بچپن میں لیکن جب زندگی سے بچپن رخصت ہوا تو آپو آپ ہی ہم بھی کتاب  سے دور ہوتے گئے ۔ پھر یوں لگا کہ ادب پر بھی وقت کی دھول جمنے لگی ہے کیونکہ نہ ادب پہلے سا رہا تھا اور نہ ہی ادب کو پڑھنے والے لوگ ۔
اچھی تحریر کو سراہنا مجھے ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے کیونکہ ایک اچھی تحریر کے پیچھے ایک رائٹر کی اچھی سوچ اور مثبت انداز بیان ہوتا ہے ۔ ایسا لکھاری ہمیشہ قابل ستائش ہوتا ہے۔
میرے نزدیک ایک رائیٹر معاشرے کا اصل ہیرو ہوتا ہے کیونکہ اس کی تحریر آپ کے کردار اور سوچ پر اثرانداز ہوتی ہے اور جب یہ سوچ  مثبت ہوتی ہے تب ہی رائیٹر اپنی تحریر کو معاشرے کے افراد کے لیے مثبت طریقے سے سامنے لاتا ہے ۔ ایسے لوگ قابل داد ہوتے جو اپنی تحریروں کے ذریعے  معاشرے کو مثبت سوچ دے کر ان کے کردار کی نشونما میں معاون ہوتے ہیں.
بہت شستہ اور آسان فہم ذخیرۀ الفاظ سے سجی  احمد رضا کی تحریروں نے بہت متاثر کیا ۔ احادیث کے حوالے سے ان کے اصلاحی پیغامات والی تحریریں یقینا بچوں کے لیےببہت مفید ثابت ہوں گی۔
وہ وقت بہت اچھا تھا جب بچے کتابوں سے اخلاقی،اصلاحی اور سبق آموز مواد پڑھتے تھے ۔ ذہن بھی صاف ستھرے رہتے تھے اور کردار بھی۔
اب تو دکھ ہوتا ہے کہ بچے ان باتوں سے بہت دور ہوگئے. 
ہم تعلیم و تربیت پڑھ پڑھ کر بڑھے ہوئے ہیں ۔ گھر میں باقی رسالے بھی اعزازی طور پر آیا کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ فیروز سنز جاتے اور جو کتاب چاہتے پڑھ لیا کرتے اور بہت کچھ سیکھتے بھی تھے کہ ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ اچھی کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے ۔
افسوس صد اقسوس کہ اب کے بچے ان احساسات اور جذبات سے محروم ہیں جو اچھی تحریر اور کتاب دیکھ کر ہمارے ہوتے تھے ۔
 بحرحال مایوسی گناہ ہے اور امید پر دنیا قائم ہے تو
بچوں کے ہاتھ میں اچھی اور معیاری کتاب پکڑا کر ہم بھی پھر سے پر امید ہو سکتے ہیں کہ جو انمول یادیں ہماری کتاب سے جڑی ہیں , وہی ہماری موجودہ اور أنے والی نسلوں میں بھی قائم رہیں ۔
احمد رضا نے امید کے اس سفر کی طرف قدم بڑھایا ہے اور اس سفر  میں مجھے وہ بہت حد تک کامیاب بھی دکھائی دیے ہیں۔

کتاب کے حصول کے لیے درج ذیل واٹس ایپ نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:

03476858880

00447424929055

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact