قانتہ رابعہ
اپنے والدین پر ان کے جانے کے بعد لکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے چار لفظ لکھے نہیں جاتے اور انکھیں جل تھل ہوجاتی ہیں۔
میرے والدین آپس میں ماموں ،پھوپھو زاد تھے، متقی باعمل اور باذوق گھرانہ جس کا ذریعہ معاش  طب یونانی تھا ،اس  کے ساتھ مطالعہ کی عادت ہر چھوٹے بڑے کو تھی ۔میں نے اپنی زندگی میں،مطالعہ ،خوش مزاجی ،عبادات اور تعلق باللہ میں اپنے  والد سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا ۔حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد میں بہت آگے تھے۔ لمبی داڑھی اور قال اللہ قال رسول کہنے والوں کے نام سے ذہن میں قدرے درشت مزاج،ماتھے پر بل ڈالے اور خشک لوگوں کا تصور پیدا ہوتا ہے ،وہ اس کے بالکل متضاد تھے،بچوں بڑوں میں یکساں مقبول،لطائف کی پٹاری کھلی رکھتے، معمولی سی ہنسنے کی بات پر دل کھول کر ہنستے ،کھانے پینے پہننے اوڑھنے سے زیادہ ماہانہ بجٹ کتب اور رسائل کا ہوتا تھا،مہینے کی پہلی تاریخ سے رسائل و جرائد شروع ہوتے، بیس اکیس تاریخ آجاتی ۔ شفیق الرحمن کو میں نے ان کی فرمائش پر بچپن میں ہی پڑھ لیا تھا ۔جب بھی وہ “حماقتیں “نکالتے مقصود گھوڑے،روفی اور شیطان کے قصے سنا سنا سنا کر خوش ہوتے ،بالخصوص جہاں سے قالین جلاہوا تھا اور کوئ مہمان اتا تو بلی جلدی سے جلے ہوئے حصے ہر بیٹھ کر چھپا لیتی۔
یا ایک فقرہ تو سناتے ہوئے بس لوٹ پوٹ ہونے کی کسر رہ جاتی تھی ۔
“مقصود گھوڑا بگٹٹ دوڑ رہا تھا”
ان فقروں کا لطف وہی جان سکتا ہے جس نے شفیق الرحمن کو پڑھا ہو ۔
بچوں کے من پسند پھوپھا جی ،بڑے ابو ،خالو اور بہنوئی تھے ۔بچوں کو ہاتھ کی مٹھی بند کر کے اصلی فاختہ کی طرح آواز نکالتے کہ منڈیر پر چڑیا اور فاختائیں بیٹھ جاتی۔
ریل کے انجن کی آواز اتنی مہارت سے نکالتے کہ قریب سے گزرنے والا سن کر بے اختیار رکنے پر مجبور ہو جائے،
بچوں کے لیے مہینے کے شروع میں ٹافیوں کے ڈھیر پیکٹ منگواتے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پیکٹ میں ٹافی ختم ہو اور بچہ انتظار میں ہو۔بسا اوقات دن کے شروع میں پیکٹ کھلتااور رات گئے ختم ہوجاتا ۔ان کے خیال میں چونکہ بچے گناہگار نہیں ہوتے لہذا انہیں خوش رکھتے۔
میرے بھانجے عزیر  اور ماموں زاد بھائی عمر جو کہ اب  میرا داماد بھی ہے ،کو ان کی حددرجہ چلبلی اور شرارتی فطرت کی وجہ سے یو پی سینئر اور یوپی جونیر کا خطاب دیا ہوا تھا۔ (یو پی مخفف تھا،عزیر پنگا /عمر پنگا)
بچوں کے منہ پر مارکر سے مونچھیں بناتے ،منہ پر ٹیپ لگاتے اور بچے ان سے راضی ،وہ بچوں سے راضی ۔ان کے لیے گھوڑا بنتے کھیلتے اور کرتب دکھاتے ،
کوئی مشکل درپیش ہوتی تو سب سے چھوٹے بچوں سے دعا کا کہتے  ،دعا کا کہتے ہوئے آواز بھرا جاتی۔ کہتے گناہوں میں یہ ہم سے بہت کم ہیں ۔مطلب ان کی عمر کم ہے تو گناہ بھی کم ہیں ۔
موسم کی کوئی سبزی پوشاک پہلی مرتبہ کھاتے تو مسنون طریقہ سے پہلے اپنی دائیں جانب سب سے کم عمر کو دے کر کھاتے۔
ذوق بہت عمدہ تھا ۔اپنے وقت کے ولی تھے ،معبر تھے ،خوابوں کی تعبیر ایسے کھٹ سے بتاتے اور ویسے ہی ہوتا۔ میں نے خواب میں سورج کو طرح طرح کے رنگ بدلتے دیکھا ۔تعبیر پوچھی تو کہا بادشاہ رنگ بدلنے والاہے ،اسی تعبیر کے گھنٹہ ایک گزرنے کے بعد اسمبلیاں ٹوٹ گئیں۔
ایک خاتون آئیں کہ خواب میں  اڑتے ہوئےجہاز کو جھنجھنا پھینک کر جاتے دیکھا ۔ترت تعبیر بتائی کہ اس کا مطلب ہے،  جونیجو گیا!  واقعی اسی دن جونیجو صاحب کی سیاست سے  رخصتی ہو گئی۔
میں نے حیرانی سے پوچھا تو بولے جونیجو کو ضیاء الحق کا جھنجھنا کہتے ہیں ناں تو جھنجھنا تو گیا کام سے۔!
خطاطی اور کتابت میں ان کی کوئی مثال نہ تھی۔
بینرز ہوں یا کارڈ سب ان سے لکھوائے جاتے۔ لکھتے ہوئے زبان ذکر سے تر رہتی۔
۔ ورع اور تقوی کا یہ عالم تھا کہ بعد از وفات ان کی  ڈائری میں لکھا دیکھا
،،ایک مرتبہ امام ابوحنیفہ یا شاید امام شافعی ( مجھے اب درست یاد نہیں )  نے ایک دن میں قرآن ختم کیا ۔مجھے یقین نہیں ایا کچھ عرصہ کے بعد میں نے صبح تہجد میں قرآن شروع کیا رات سونے کے لیے لیٹا تو میرا قرآن مکمل ہوچکا تھا ،،
یہی نہیں انہوں نے کسی مسجد مدرسے سے قرآن حفظ نہیں کیا تھا ۔ہمہ وقت تلاوت میں مشغول رہتے اور اس حال میں اپنے خالق سے ملے کہ تیس سیپاروں کے حافظ تھے۔
ذکر اذکار میں ان کے پاس ہزاردانوں والی تسبیح تھی ۔جس کی قسمت میں بس ان کی انگلیوں میں گھومنا لکھا تھا ک۔ثرت سے ذکر کرتے۔ جب غسل دیتے ہوئے ان کے ہاتھ دھونا چاہے تو بعد از وفات بھی ان کی دائیں ہاتھ کی انگلیاں ذکر کرنے کی حالت میں مڑی ہوئی تھیں ۔جو پڑھتے اس کے نوٹس لینے کے عادی تھے۔

غصے میں ،لاحول ولاقوۃ کہتے اور بہت خوشی ہوتی تو سبحان اللہ۔
میں واپس میکہ سے آتی تو گلی ختم ہونے تک دروازے پر کھڑے ہو کر دم کرتےہوئے  پھونکیں مارتے میں ۔بالکل غیر فیملی میں گئی کوئی واقفیت نہ تھی۔ میری دلجوئی کے لیے مزے کے خط لکھتے،
اس زمانے میں جب موٹیویشنل سپیکر نہیں تھے ۔وہ بہترین کاونسلنگ کرتے ۔آنے والے پریشانی کے ڈھیر لے کر آتے ،واپس جاتے تو یکسو ہوکر جاتے۔
 اللہ نے انہیں مستجاب الدعوات بنایا تھا ۔جس نے دعا کا کہہ دیا ۔اس کا نام ڈائری میں محفوظ ہوجاتا ۔اپنے قرابت والوں کے لیے روزانہ دعا کرتے۔ کچھ کے لیے جمعہ کی شب اور کچھ کے لیے ماہانہ بنیادوں پر! ہر سال کے اختتام پر وصیت نامہ لکھتے ،وصیت نامہ کیا ہوتا ایک ایمان افروز تحریر گناہوں کا اعتراف بخشش کی دعاؤں کی درخواست۔!
ایک وصیت نامہ میں لکھا کہ میں کسی کو دعا کا صرف اس لیے نہیں کہتا کہ اگر وہ دعا نہ کرسکا تو قیامت والے دن لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔
  خاندان کیا خاندان سے باہر بھی کسی کا کوئی بھی پیپر ہے بس ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہنے والا
،”ہمارے لیے دعا کریں “ٹینشن فری ہوجاتا کہ اب اس کا کام پیر حل کرنا اور کامیابی تو ان کی دعا کے صدقے مل ہی جائے گی ۔
ان کے دعاؤں کے طفیل ہم نے ایک دو نہیں سینکڑوں معجزات ہوتے دیکھے۔
ملکی حالات کی خرابی حد سے بڑھ چکی تھی اور سرحدوں پر چوبیس گھنٹے شدید خطرے کا الارم بج چکا تھا ہمیں رات کو وظیفہ کے لیے لے کر بیٹھ گئے۔
اگلی صبح اندرا گاندھی کے مرنے کی اطلاع مل گئی اور سرحد پر خطرہ ٹل گیا۔
چچا میاں ڈاکٹر تھے ان کی جب بھی   پروموشن ہوتی  پروموشن کے لیے پوسٹنگ لازمی ہے چچا میاں کو فیصل آباد پسند اگیا کہیں جانا نہیں چاہتے چلیں جی بڑے بھائی ہیں ناں خط اگیا یا فون پر بات ہوگئی۔
،بھئ یہ مسئلہ ہے ،
بس مسئلہ جانے یا مسئلہ حل کرنے والا پوسٹنگ رک جاتی پروموشن ہوجاتی۔
بے انتہاء محب وطن تھے۔ چودہ اگست ان کی بھر پور خوشی کا دن ہوتا ،قائد اعظم ،اور علامہ محمد اقبال سے انہیں عشق تھا اور جو ان کا مخالف ہوتا اس کے لیے اچھی رائے نہ رکھتے ،ایک بہت معروف شخصیت کا انتقال ہوا جو کہ پاکستان اور اسلام دشمنی کے حوالے سے معروف تھی مرنے کی خبر سن کر بے ساختہ کہا:
خس کم جہاں پاک! واللہ اس کا مطلب اس دن سمجھ میں آیا۔
ہمیں کہاجاتا ،جھنڈیاں ،پرچم  جو لہرانا چاہو سجانا چاہو سجاؤ۔ سب سے اونچا جھنڈا ہمیشہ ہمارے گھر کا ہوتا تھا ۔جس نے کبھی قائد اعظم کے متعلق ایسی ویسی سنی سنائی بات کی ہوتی ،اس کی شامت آجاتی، دلائل ان کے پاس آتے اور جھرنوں کی طرح منہ سے بہتے ! اس میں ان کا غضب کا حافظہ بھی مددگار ثابت ہوتا۔
وہ خالق کے ساتھ تعلق صرف عبادت سے نہیں  مخلوق کی  مدد سے کرتے بہت سے نادار لوگ تھے جن کے وظائف مقرر تھے ،ہر ایک کی مہمان نوازی میں بہت آگے تھے۔
حس مزاح اور داڑھی والے میں ؟
ان کا حس مزاح کا لیول عام آدمی کی سطح کا نہیں تھا جس میں چھچھورا پن ہوتا۔
اکثر قصہ سناتے کہ ہندوستان میں  ان کے ایک کلاس فیلو نے ملتان میں رہائش اختیار کی جبکہ ابا جی وغیرہ ضلع ملتان کے ایک قصبہ جہانیاں منڈی میں قیام پذیر ہوئے ،پاکستان آمد کے کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ فلاں دوست ( جن کی کاسٹ میراثی تھی) ملتان میں مقیم ہیں۔
ان سے ملنے گئے تو دروازے کے باہر نام کی تختی پر نام کے ساتھ قریشی لکھا ہوا تھا ۔رات کے اندھیرے میں اس کے نام سے آگے بریکٹ میں سابقہ میراثی لکھ کر آگئے۔
اب اگلی صبح اس نے دیکھا تو سمجھ گیا یہ کس کی حرکت ہے ۔وہ بھی ان کا مزاج جاننے والا تھا ۔جہانیاں میں آیا اور ہمارے گھر کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گیا کہ باہر آئیں گے تو نبٹ لوں گا ،ابا جی کو معاملے کی نزاکت کا بھی احساس تھا ۔مسجد میں بھی جانا ضروری تھا تو امی کا برقعہ پہن کر گھر سے نکلے اور یہ جا وہ جا۔
دنیا دولت یا عہدوں سے بے نیاز تھے۔ ان کے پاس غناء کی دولت تھی۔ تقوی کا ہتھیار اور فکر آخرت سے ہر وقت آنکھیں آنسوؤں سے بھری رہنے والی آنکھیں۔   
رمضان المبارک سے پہلے ہر سال گھر کے درودیوار پر رنگ روغن کرواتے ،کہتے اللہ کا مہمان آرہا ہے۔ رمضان المبارک میں بچوں کے اندر نیکیوں میں مسابقت کا جزبہ پیدا کرتے،رمضان کے فضائل لکھ کر فوٹو کاپی کرواتے اور سب میں تقسیم کرتے  ،رمضان میں ان کی کیفیت ہی کچھ اور ہو جاتی ۔مارا پالتو طوطا بھی طاق راتوں میں جاگ کر میاں مٹھو اللہ ہو ،حق اللہ ہوکہتا تھا۔
درجنوں تفاسیر تھیں جو پڑھ چکے تھے۔ سیرت کی شاید ہی کوئی کتاب تھی جو ان کی لائیبریری میں نہ ہو۔ جب میرے بھائی کے گردے ختم ہوئے ،ٹرانسپلانٹ ہوا ،سال ایک کے بعد اس کا انتقال ہوا ،سب گھر والے دہائیاں دے رہے تھے کہ ساری علامتیں کالے جادو کی ہیں لیکن انہوں نے قرآن کی تلاوت سے ہٹ کر کسی طرف رخ نہ کیا  اللہ نفع نقصان کا مالک ہے  بس اور بات ختم ! موحد اور مقرب تھےتبھی آزمائے گئے۔۔
ان کا مقولہ تھا “جان جائے پر ایمان نہ جائے :اور سچ بات ہے کہ میں تو بیٹی تھی سات غیروں نے بھی ان کو اپنے ایمان کی جیسے حفاظت کرتے دیکھا۔اس کی مثال نہیں۔
میرے بھائی کے ٹرانسپلانٹ کے بعد بہت سنگین مسائل پیدا ہوئے ۔ٹائیفائڈ ،فالج ،طرح طرح کی آزمائش آئی۔ جب فالج کے بعد پہلی مرتبہ میرے بھائی کو گھر لایا گیا اور انہوں نے دروازے سے بیٹے کو اپنے پاؤں پر چل کر آتے دیکھا تو بے اختیار گلاس میں چمچ ڈال کر بجایا ؛جلترنگ کی سی آواز پیدا ہوئی تو کہنے لگے:
*انہ ھو اضحک وابکی* ( بے شک اللہ ہی ہنساتا ہے اور اللہ ہی رلاتا ہے)
جب جوان بیٹے کی میت سامنے پڑی تھی تو آنے والوں کو صبر کی تلقین کرتے رہے۔  ان کے وعظ اور تلقین میں قدرت نے  ،اولیاءکی زبان والی تاثیر دی تھی ۔مجھے انہوں نے جن آیات کی تفسیر سمجھائی آج بھی سیاق و سباق کے ساتھ میرے دماغ میں تین عشرے گزر جانے کے بعد لفظ بلفظ موجود ہیں۔
مجھے اشکال تھا کہ کیا چین جاپان میں بھی پیغمبر آئے تھے؟ فورآ ایت پڑھی:
امن قریۃ الا خلافیھا نزیر ( کوئی بستی ایسی نہیں جہاں ہم نے ڈرانے والا نہ بھیجا ہو )پھر مولانا مناظر احسن گیلانی کی سیرت کی کتاب کا حوالہ دے کر ان کی تحقیق گوش گزار کی کہ ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں ف کو پھ بولا جاتا ہے اس قاعدے کی روح سے ذوالکفل کو  کپل وستو  ، بھی کیا جاسکتا ہے۔
اردو زبان میں فیروز اللغات  ،عربی میں المنجد، انگریزی زبان میں آکسفرڈ ڈکشنری جہاں مطلب سمجھنے یا تلفظ میں ادائیگی کا مسئلہ ہوتا پلک جھپکنے میں لغات کھل جاتیں ،ہمارے الفاظ کے
درست تلفظ کے لیے ہر  ممکن کوشش کرتے غلط تلفظ ان سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔
تقریر لکھ کر دیتے ،حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے۔
 شب زندہ دار! ان کی نیند چار سے پانچ گھنٹے کی تھی لیکن بہت گہری۔ 
اڑوس پڑوس میں جتنے گھر سب سے مثالی تعلقات ،دائیں جانب خالہ رہتی تھیں۔ بجلی جاتی تو ہمیں پیالی دے کر کہتے جاؤ اپنی خالہ سے تھوڑی سی بجلی لے آؤ ،،
سنت چھوٹی ہو یا بڑی ہم نے انہیں ہر سنت کا ہمیشہ  بہت اہتمام کرتے دیکھا  سالن والا برتن ہو یا دلئیے والا چائے والا ہو یا لسی والا کھانے کے بعد اس میں پانی کا گھونٹ ڈال کر کھنگال کر پیتے،جمعہ کے دن بہت اہتمام سے تیار ہوتے ۔ہلکی آواز میں ان کے ہروقت تلاوت قرآن کی آواز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے  ۔مسواک باقاعدگی سے کرتے لیکن دانت پیلے ہی رہتے ،کئی مرتبہ سوچا ابو سے کہوں آپ کبھی کبھار ٹوتھ برش سے دانت صاف کیا کریں لیکن کہہ نہ پائی ،اور جب ان کو سفید کفن میں لایا گیا تو ان کے مسکراتے سفید موتیوں جیسے چمکتے ہوئے دانت مجھے اپنی زبان میں سمجھا رہے تھے کبھی کسی میت کو اتنے سفید دانتوں سے مسکراتے دیکھا ہے؟ایک بات ان کی جو میں نے کسی میں نہیں پائی کسی سے سوال نہیں کرتے تھے  ان کے بقول سوالی کے چہرے کا گوشت روز قیامت نچا ہوا ہوگا کبھی کسی سے کوئی چیز مانگنا ان کی سرشت میں تھا ہی نہیں بلکہ ایک مرتبہ امی نے کھانا دیا تو پانی کا گلاس رکھنا بھول گئیں  ابا جی اور کسی سے کچھ مانگیں؟  بس یہی کہا
“کربلا والو”
امی باورچی خانے سے دوڑی چلی آئیں اور پانی کا گلاس پاس رکھ کر خفا ہوئیں کہ کبھی تو زبان سے کچھ مانگ بھی لیا کریں۔
جس طرح مانگنے سے دامن بچاتے تھے اسی طرح مانگنے والے کو کبھی خالی ہاتھ لوٹانا ان کی سرشت میں نہیں تھا خواہ مانگنے کا تعلق رقم سے ہو یا علم سے۔
ہمہ وقت ان کے پاس فقہی مسائل پوچھنے والوں کا جمگھٹا لگا رہتا ۔جب کسی عالم کے آنے کا سنتے اسے مدعو کرتے ۔چائے پانی کھانا دستر خوان بھی دل کی طرح بہت وسیع تھا۔ 
بہت سوچتی ہوں کہ میں نے لکھنا کیوں شروع کیا ۔ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کم سنی میں میرے نانا نعت پڑھتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوئے ۔کراچی یونیورسٹی کے جمعیت طلبہ کے ناظم سید زاہد بخاری ،میرے ماموں کے دوست تھے ،دونوں کے ساتھ خواجہ طفیل (حافظ سلمان بٹ مرحوم کے والد) کے علاوہ بھی کئی لوگ موجود تھے ۔نعت پڑھتے ہوئے دائیں جانب دیکھا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ہڑھا اور داعی اجل کو لبیک کہا۔
ماموں بھانجے کے رشتے کے ساتھ داماد سسر کا رشتہ بھی تھا ۔نانا نے اپنا روحانی ترکہ  اپنے داماد کے سپرد کیا اور داماد نے ان کی رخصتی کر منے منے مصرعوں والی نظم بیس بائیس اشعار میں لکھی اور میرے نام سے بچوں کے رسالے نور میں بھیج دی۔ اس  نظم کے کچھ اشعار اب بھی سینتالیس اڑتالیس سال گزرنے کے باوجود مجھے یاد ہیں۔
کیسے تھے اچھے نانا
کیسے تھے پیارے نانا
جنت میں ان کو یارب
اچھے ملے ٹھکانہ
اور جب بھی  مجھے فرصت ملے ،میری سوئی اس سوال پر اٹک جاتی ہے۔  سوچتی ہوں ہم پانچ بہنیں دو بھائی تھے ۔میں تین بہنوں سے بڑی اور تین بہن بھائیوں سے چھوٹی تھی یعنی درمیانی۔
ابا جی نے یہ نظم سات بچوں میں سے میرے نام پر ہی کیوں بھیجی؟
عموماً بڑے بچے یا چھوٹے قابل توجہ سمجھے جاتے ہیں ۔مجھ کم حیثیت کو انہوں نے نو دس سال کی عمر میں اتنی حیثیت کیسے دی ؟ کیا انہیں  کوئی غیبی اشارہ ہوا تھا ؟یا انہیں معلوم تھا کہ وہ صاحب کتاب ہیں تو ان کی نسل میں یہ منصب میں ہی سنبھال سکتی ہوں؟ یا مجھ سے توقع تھی کہ ان کی کتب اور علم دوستی کی وراثت مجھ میں منتقل ہو سکتی ہے؟؟ 
۔اللہ ہی جانے لیکن میں جب کچھ لکھتی ان کے چہرہ پر خوشی خون بن کر جھلکتی تھی بے اختیار۔ وہ پیسے نکال کر مجھے تھماتے ڈاک کے لفافے منگوا لینا
والد ان کے چھوٹی عمر میں چل بسے ۔ہجرت کرکے پاکستان آگئے لیکن ان کے والد اور بڑے بھائی کو آب و ہوا راس نہ آئی ۔ایک بہن بھی آگے پیچھے رخصت ہوئے ۔وہ دن اور اس کے بعد جتنے دن سال ان کی والدہ  زندہ رہی،ں ادب احترام اور محبت کا حیرت انگیز معاملہ دیکھا، خود بتاتے تھے میں نے اماں جی کو کبھی ادب کی وجہ سے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا نظریں جھکا لیتا ہوں۔
جب وہ فوت ہوئیں تو ان کی یاد میں مضمون لکھا اور یہ شعر لکھتے ہوئے روپڑے:
چار دناں دا اڈی ٹاپا دو دن کھانا پینا
ماں موئی تے مک گئے میکے کیہہ کڑیاں دا جینا
اس مضمون میں انہوں نے اختتام اس فقرے پر کیا کہ نو جنوری بروز ہفتہ سہہ پہر چار بجے اللہ نے ہم سے امانت چھین لی ۔مضمون پوسٹ ہو چکا تھا ۔”چھین لی “کے لفظ پر انہیں بعد ازاں اتنا پچھتاؤا ہوا کہ  مضمون اگلے ماہ کے بتول رسالے میں شائع ہوا لیکن ساتھ ہی معذرت کہ چھنتے تو ڈاکو ہیں ۔میں اس پر معافی مانگتا ہوں ۔”امانت واپس لے لی “پڑھا جائے،جتنے رسالے ہمارے ہاں آتے تھے سب پر یہ لفظ لکھ کر چپکایا،
امانت کے لفظ سے یاد آیا کہ امانت کا حق ادا کرنے والے اب روئے زمین پر خال خال ہی ملتے ہیں۔ میرے ابا جی یہ بھی تھی کہ وہ امین تھے۔!
اگر رقم بطور امانت کسی نے ان کے سپرد کی ۔یا بھلے دس سال کی مدت گزرنے پر رقم بطور امانت رکھوانے والااسے لینے آئے۔ انہوں نے ساری زندگی اسے اسی کے دیے نوٹ واپس کئے ۔۔ہمیں تلقین کی جاتی کہ سوروپے امانت کے ہوں  یا دس لاکھ ،وہی نوٹ واپس کرنا ہوگی ،یہی نہیں اس کو وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو کسی بھی سیلاب زلزلے یا ہنگامی حالات میں جب امدادی فنڈاور اشیاء جمع کرنے کا کام کیا جاتا تو سارے شہر کی نظر انتخاب میرے ابا جی پر پڑتی۔ مجھے یاد ہے کہ سن اسی کی دہائی میں بدترین سیلاب آیا ۔ لوگوں نے دل کھول کر عطیات اور ہر قسم کی اشیاء جمع ہمارے گھر میں کروائیں ۔کیا اپ یقین کریں گے کہ میرے ابا جی نے جب وہ سارا سامان الگ الگ پیکٹ بنا کر پیک کر کے بوریوں میں بند کیا تو وہ ستلی اور رسی جن سے سامان باندھ کر لوگوں نے بھیجا تھا وہ ناکارہ ہونے کے باوجود بھیجے جانے والے سامان میں ڈال دی گئیں اور کہا بھلے ہمارے کام کی نہیں ردی ہیں لیکن ہے تو امانت۔!
میرے جواں سال بھائی کا انتقال ہوا تو ہم اس کی باتیں کرتے اور روتے تھے ۔ہمیں اکثر کہتے دیکھو قبر میں مردے کو باتیں نہیں پہنچتیں دعائیں پہنچتی ہیں ، ہمیں باتوں سے روک دیتے اور خود یہ حال تھا کہ میرے بھائی کی وفات کو ایک سال تین سو تریسٹھ دن ہوئے تو وہ خود بھی قبر میں تھے جو ہمیں کہا کرتے تھے باتیں نہیں دعائیں پہنچتی ہیں ۔ان کی الماری سے بعد از مرگ ایک فائل نکلی ۔اس کے کور پر انتہائی خوبصورت موتیوں جیسی لکھائی میں رنگین مارکر سے آنسو بنا کر لکھا ہوا تھا۔
،”،بیاد اویس ،آنسووں کی لڑی “،اندر ساری فائل  اویس کی یاد میں اشعار لکھ لکھ کر  فائل کا پیٹ بھرا ہوا تھا۔
دوردراز کے ایک علاقے سے ایک صاحب ابا جی کی تعزیت کے لیے یہ بتانے آئے کہ خواب میں انہیں جنت میں دیکھا ۔پوچھا تو جواب ملا،،جوان  بیٹے کی وفات پر صبر کی وجہ سے جنت میں ہوں،،
وقت کی  پابندی کا یہ عالم تھا کہ جو کام جس وقت کرنا طے ہوتا وہ سیکنڈ کی سوئیاں تک چیک کرتے۔
اپنے ذمے عائد کاموں کو مقررہ مدت کے اول حصے میں کرنے کی عادت مجھ میں ان سے ہی آئی ہے۔ کوئی کام تین ہفتوں میں کرنا ہے یا تین گھنٹوں میں،اس کے شروع میں ہی کام پایہ تکمیل پہنچا کر فارغ ہو جاتے۔
تفرقہ بازی کے دشمن تھے ۔شیعہ سنی دیوبندی نقشبندی سب کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ۔ہاں بدعتیوں کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھتے۔ 
دنیا سے بے رغبتی اور علم پر عمل میں اتنے حساس تھے کہ ان کے مخالفین بھی ان کی ان صفات کا برملا اعتراف کرتے۔
انتخابات میں انتخابی مہم کا مرکز ہمیشہ ہمارا گھر ہوتا ۔درجنوں خواتین کے گروپ سارے شہر میں انتخابی مہم کے لیے روانہ ہوتے اور مرکزی حیثیت ہمارے گھر کو حاصل تھی ۔جب ہم انتخابی مہم کے لیے گھر سے نکلتے تو سب کو بنیادی نکتے ذہن نشین کرواتے جن کے بل بوتے پر انتخابات میں اگر ہماری جماعت قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ حاصل نہ بھی کر پاتی لیکن ہمارے حلقوں سے کوئی اور جیت جائے یہ ممکن ہی نہ تھا۔  انتخابات والے دن ہم پولنگ  ایجنٹ بن کر نکلتے تو تمام قانونی نکات رٹوا دیتے ،بوگس ووٹ کی شناخت کیسے ہوتی ہے۔  ،اس کا تو اتنا اچھا سمجھاتے کہ ہمارے پولنگ سٹیشن پر ہمیشہ پھڈے بازی ہوتی کہ مخالف پارٹی کے جعلی ووٹر ووٹ ڈالنے کی ہر کوشش ہم لوگ ابا جی کے سمجھائے اصولوں کے مطابق ناکام بنا دیتے۔
مخالف پارٹی کے امیدوار برسر عام اعتراف کرتے کہ سلیمانی خاندان کی پولنگ ایجنٹوں کے پاس کوئی جادوئی طریقہ ہے جو وہ اپنے پولنگ سٹیشن پر ہمیشہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے ہیں۔
وہ جادوئی طریقہ یہ تھا کہ انتخابی مہم کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ہمیں سرخ اور نیلی مارکر دیتے تھے کہ تم لوگ جس  گھر میں بھی جاؤگی وہاں کے ووٹر کی شناخت فہرست سامنے رکھ کر کرنا ہوگی ۔اگر کوئی ووٹر بہت موٹی ہے تو کالے مارکر سے نشان لگانا اور *,میم* لکھ دینا اگر دبلی یے کالی مارکر سے
*دال* لمبی ہے تو نیلی مارکر سے *لام*, وغیرہ وغیرہ  تو اگر کوئی بیرون ملک ہے اور انتخابات میں اس کی پاکستان آنےکا قطعی پروگرام نہیں تو اس ووٹر کے نام سے اگے *غین*,
یوں ان کی ہدایات کی روشنی میں جھنڈا ہمیشہ ہمارا ہی بلند ہوتا اور مخالفین دانتوں میں انگلیاں دبائے غور کرتے رہ جاتے۔
،آج میری حالت دیکھیں میں اپنے پیاروں کے بغیر بھی نہ صرف جی رہی ہوں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ سب کچھ نہیں کر سکتی جو وہ اپنی زندگی میں ہمیں تلقین کرتے تھے۔اللہ نے ان کو جو خوبیاں دی تھیں وہ سب ان کی اولاد میں موجود ہیں لیکن مختلف صفات ساری اولاد میں الگ الگ۔
اللہ ہم  سب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔  اللھم اغفر لہ وارحمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact