گُلِ زارـــ ڈی آئی خان
اس پیاری دنیا کو طاقت کا “فاتحانہ تفاخر” تباہ کر رہا ہے جو اندھا ،گونگا اور بہرا ہے،
نہ وہ مدمقابل کے خدوخال کو دیکھتا ہے ،
نہ اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور
 نہ اس کی دلیل سنتا ہے،
بس چنگھاڑتا ہوا تصوراتی فتح کے جھنڈے لہراتا ہوا اپنے حریف پہ جھپٹ پڑتا ہے۔
 عدم توازن کے باوجود اپنے سے کمزور ، پسماندہ قوم پہ حملہ آور ہونے پہ زرا برابر بھی شرمندہ نہیں ہوتا ہے۔
کوئی ہے جو طاقت کی آزمائی کے جنون کو روکے؟
انسانیت کش ہتھیار بناتے والے، ہزاروں لاکھوں قیمتی جانوں کے ضائِع کرتے ہیں۔
خدا فراموش لوگ ،دنیا کو بدامنی کی دلدل میں دھنسائے جارہے ہیں۔
 کلسٹر میزائل ، فاسفورس بموں ڈرونز کی زد میں ہیرے تحلیل ہو رہے اور نومولود پھولوں کو اجتماعی قبریں میں دفنائے جا رہا ہے۔
نجانے کہاں چلی گئی انسانوں کی انسانیت؟
انسان تو اشرف المخلوقات ہے وہ دوسروں کے درد کو بھی بالکل ویسا ہی محسوس کرتا جتنا اپنے درد کو۔
جنگ نے انسانیت’ اور ‘بنیادی حقوق’ کو بوسیدہ افکار کی طرح  لات رسید کرتی ہے،
اور سیاہ چادر میں منہ چھپائے ہر تہذیب، ورثہ ، خوبصورتی، پیار محبت کو کھا جاتی ہے۔
آؤ نا انسانیت کو زندہ کریں ، محبتیں بانٹیں، امن رواداری کا درس دیں۔
یہ تو انسانی حقوق کا سنہرا دور  ہے
انسانیت کے اصول و حقوق دریافت ہو چکے ہیں۔
انسانیت, جنگی جنون کے سامنے سر جھکائے کھڑی ہے.
آؤ نا اِنسانیت  کے راستے میں حائل اس پتھر کو اٹھائیں ۔
ظلم کے سمندر میں انسانیت کی ڈوبتی ناؤ کو امن کے ساحل پر لگائیں۔
یہاں کوئی نہیں بچا جو ،اب محبتوں کی اذاں دے ،
آؤ نا حسن سلوک اخوت و مساوات کے موتیوں کو چُننے۔
امن کے لیے کی جانے والی “پہل” بہادری ہے۔
آؤ نا دنیا کو بہادری کی فتح سے ہمکنار کریں اور انسانیت کی بقا کا پرچم لہرائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact