علیزے نجف ایک صحافی، شاعرہ، ادیبہ، انٹرویو نگار و تجزیہ نگار ہیں ان کا تعلق ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے علمی شہر اعظم گڈھ  سے ہے، پچھلے پانچ سالوں سے وہ قلم و قرطاس کے زریعے مسلسل طبع آزمائی کر رہی ہیں، نثر ہو یا نظم دونوں ہی صنف کے ذریعے ان کے خیالات و نظریات کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے، ان کے قلم میں حقیقت پسندی کا عنصر نمایاں حیثیت رکھتا ہے، تجزیہ نگاری کی صلاحیت نے انھیں تقلیدی نظریات سے ہمیشہ دور رکھا، ان کے خیال کے مطابق انسانی معاشرہ اور زندگی متنوع پہلوؤں کے حامل ہوتے ہیں اس پہ ساری زندگی غور و فکر کرنی چاہئے تاکہ زیادہ محکم حقیقتوں تک پہنچا جا سکے، ایسے میں تقلید سے پہلو تہی کرنا لازم ہے، انسان کے اندر موجود پوٹینشیل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے اجتہاد کی راہ ہموار کی جائے نہ کہ محض تقلیدی نفسیات کا اسیر ہو کے اس امکانی صلاحیت کا گلا گھونٹ دیا جائے۔  علیزے نجف نے بحیثیت انٹرویو نگار کے اس صنف میں انفرادیت کی راہ کو اپنایا ہے، عمومی طور پہ انٹرویوز مختصر ہوتے ہیں لیکن ان کے انٹرویو کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ جامع اور سیر حاصل علمی گفتگو پہ مبنی ہوتے ہیں کیوں کہ وہ شخصیت و ذات سے زیادہ نظریات پہ فوکس کرتی ہیں تاکہ اسے پڑھنے والے ان نظریات سے استفادہ کر سکیں اور اس سے ایک نئے زاویے کی تشکیل بھی کر سکیں حقیقت کے دوسرے پہلوؤں سے بھی واقف ہو سکیں ہمارے معاشرے میں شخصیت پرستی کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہمارے یہاں نظریات کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو کہ ہونی چاہئے، لوگ اعلی اوصاف و کمال کو ذات سے جوڑ کر ان سے اس حد تک عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں کہ وہ ان کی ہر بات پہ آمنا و صدقنا کہنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ سے بےبنیاد روایتیں پیدا ہوتی ہیں جو افراد کے فکری جمود کی وجہ بنتی ہیں، قومیں اس کے بدترین عواقب بھگتتی ہیں، نسلیں فکری طور پہ ناآسودہ رہ جاتی ہیں۔  علیزے نجف بحیثیت انٹرویو نگار کے اب تک ستر سے زائد انٹرویوز لے چکی ہیں جو کہ مختلف مؤقر اخبارات اور معروف علمی و ادبی ویب سائٹ پہ شائع ہوئے ہیں۔ جن کا انھوں نے انٹرویو کیا ہے   یہ وہ شخصیات ہیں جو مختلف شعبے سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے شعبے میں ماہر کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے ماہر نفسیات، ماہر تعلیم، ماہر حافظہ، ادیب، شاعر پروفیسر، صحافی ڈاکٹر، اسلامک اسکالر وغیرہ ۔
علیزےنجف کی صحافتی سرگرمیاں بھی اہمیت کی حامل ہیں، ان کے کالم ہندوستان کے سبھی مؤقر اخبارات میں شائع ہوئے ہیں اور ابھی بھی ہوتے ہیں، جن میں انقلاب، راشٹریہ سہارا، قومی صحافت، سیاسی تقدیر، اخبار مشرق، سچ کی آواز وغیرہ قابل ذکر ہیں صحافت کی بساط پہ ان کی سوچ کے مطابق ہمیں اندھی اتباع اندھی تنقید دونوں سے ہی احتراز کرنا چاہئے، بحیثیت عوام کے ہمیں اچھا نظام کی طلب رکھنی چاہئے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم صحیح طریقہء کار اور تعمیری نظام کی وکالت کریں  نا کہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کی، کسی جماعت کی حمایت کا مطلب قطعا یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کے غلط فیصلوں کی بھی تائید کی جائے، اس پہ بھی سوال اٹھانا ایک سچے صحافی کی پہچان ہوتی ہے، جس طرح سیاست کی راہیں پیچ و خم سے نبرد آزما ہوتی ہیں بلکل اسی طرح صحافت کو بھی انھیں ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے گزرنا پڑتا ہے سیاست و صحافت دونوں کی کامیابی کا انحصار اخلاقیات پہ ہوتا ہے علیزے اپنی صحافت کے ذریعے ان پہ خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ ان کے کالمز میں کسی واقعے کے ہر پہلو کی منظر کشی کی کوشش بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے، وہ اپنے قاری کو رائے قائم کرنے کی آزادی دیتی ہیں تاکہ منفرد خیالات کی آبیاری کی جا سکتی۔
شاعری لطیف احساسات کو الفاظ دینے کا نام ہے علیزےنجف اپنی شاعری میں انھیں احساسات کو سمیٹنے کی کوشش کرتی ہیں اظہار کے لئے سب کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے علیزے کے خیال کے مطابق شعری ذوق انسانی احساسات کو ڈیولپ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ لفظوں کو محسوس کرنا سکھاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں منطق اور جذبات دونوں کی ہی آمیزش پائی جاتی ہے عقل اور جذبات کے توازن سے ہی زندگی کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا ایک خوبصورت شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
ہر روز کشف ذات میں گذری مری حیات
شاید میں اپنے آپ میں ہی بےپناہ ہوں

ہم شہر محبت کی فضاؤں کے پرندے
ہم عالم احساس میں خوشبو کی طرح ہیں

علیزےنجف قلم کے ذریعے اپنے فکر و خیال کی ترسیل میں کوشاں ہیں ان کے قلم میں ادب متنوع پہلو شامل ہیں مختلف ادبی شخصیات پہ لکھے گئے ان کے مضامین مختلف رسائلو جرائد کی زینت بنتے رہے ہیں، مجموعی طور پہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علیزے نجف کا قلم علمی میدان میں تقاضائے وقت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش میں مسلسل متحرک ہے، اپنی مختلف علمی صلاحیتوں کے ذریعے وہ وسیع النظری پہ مبنی علم کو فروغ دینے کی خواہاں ہیں، کیوں کہ اس وقت انسانی برادری میں رواداری، احساس، مروت جیسی صفات کی ہی ضرورت ہے تنگ نظری نے معاشرے اور انسانیت کو بہت نقصان پہنچایا ہے، علم کی اصل سرخروئی ہی یہی ہے کہ وہ  انسان کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنا سکھائے، اخلاق اور کردار کو آفاقی اصول کا مقام حاصل ہو، مذہب کو علم و تحقیق کے ذریعے اپنانے کی ترغیب دی جائے انسان کے اندر موجود ممکنہ صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع حاصل ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact