Friday, April 19
Shadow

افسانہ: آئینہ ، تحریر: روبیہ مریم روبی

روبیہ مریم روبی

رانی نگر کی تنگ سی گلی کی نکڑ پر  دائیں مڑ کر بجلی کے کھمبے کی پچھلی طرف مہوگنی خاندان کی جنس نیم کے درخت پر لٹکا ہوا زنگ آلود !چار تکونی آئینہ۔۔۔میری جب بھی اس پر نظر پڑتی۔۔۔خود سے استفسار کرنے لگتی ۔۔۔وقت کے کسی حصے میں یہ آرسی خوب صورت ,دلکش اور شفاف ہوتا ہو گا؟سب کے دل کو لبھاتا ہو گا؟اگر اس پر دھول گرد فریفتہ ہونے کی کوشش بھی کرتی تو۔۔۔اس کی مالکن فوراََ صاف کر دیتی ہو گی۔اس میں چہرہ کتنا حسین  لگتا ہو گا!چندے آفتاب چندے ماہتاب۔اسی گلی میں مکھیا کا گھر تھا۔۔۔جس کے دو دروازے تھے۔ایک وہ جو سائز میں  بڑا تھا۔۔۔دوسرا جو سائز میں چھوٹا تھا۔۔۔اس سے ہمیشہ جھک کر گزرنا پڑتا تھا جب کہ دوسرے دروازے سے سیدھا اور اکڑفوں گزرا جا سکتا تھا۔۔۔کیوں کہ یہ اونچا اور کشادہ تھا۔مکھیا کے گھر میں صرف ایک بار جان ہتھیلی پر رکھ کر گئی۔وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔۔۔۔کیوں کہ بڑے دروازے کے سامنے شاندار دراز قد آئینہ ایستادہ تھا۔اس کو دیکھنا جان جوکھوں کا کام تھا۔۔۔کیوں کہ اندر جانے کے لیے چھوٹے دروازے سے جھک کر گزرنا پڑتا تھا۔۔۔۔جو کہ دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔اس دراز قد آئینے کو مالکان ہر روز صاف کرواتے۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ نیم کے درخت پر لٹکے آئینے سا حال اس کا بھی ہو جائے۔۔۔جس کو برسوں سے بچا کر رکھا ہے۔

اس گلی میں بہت رش ہوتا تھا۔۔۔لوگوں کے جانور۔۔۔اجنبی لوگ۔۔۔بھیڑ بکریاں ۔۔۔پھیری والے۔۔۔ریڑھیوں اور سبزی والے۔۔۔اور محلے کے لوگ سب وہیں سے گزرتے کیوں کہ یہ گلی چوک کو لگتی تھی۔۔۔۔اس کی اینٹیں گھس چکی تھیں۔۔۔چار سو گرد ہی گرد تھی۔۔۔یہی گرد اڑ اڑ کر نیم کے درخت اور آئینے پر پڑتی۔۔۔وہ اندھا ہو چکا تھا۔۔۔چاروں طرف چوپڑ کا بازار تھا۔۔۔

کچھ سال پہلے میری ہمسائی کے باغیچے کے اوپر سے گزرتی ۔۔۔انگور کی بیل کی ڈالیوں سے  الجھا ہوا یہ ایک شفاف شیشہ تھا۔اس کے اردگرد پھول کھلے رہتے۔۔۔اس کی بڑی بیٹی اس کو دیکھ دیکھ  کر محظوظ ہوتی رہتی۔۔۔گلوں کے درمیان میں پڑے آرسی پر پڑتی سورج کی کرنیں سونے پر سہاگہ ثابت ہوتیں۔۔۔یوں لگتا جیسے خورشید  کرنوں کے موتی برسا رہا ہو۔۔۔مگر دربدر ہوتے ہی وہ زمانے کی کالک سے اٹ گیا۔ایک دن مجھ سے رہا نہ گیا۔۔۔نیم کے درخت کو پتھر مارا۔۔شیشہ زمین پر آن پڑا۔۔۔میں اسے اٹھا کر گھر لے آئی۔۔۔اس پر تیزاب ڈال کر جلدی جلدی صاف کرنے لگی۔۔آخر سالوں کی گرد منٹوں میں کیسے صاف ہوتی۔۔۔اس کی سیاہی گہری ہو گئی۔۔۔شرارتی بچوں نے بےکار کھلونا سمجھ کر پاؤں سے ٹھیلتے ہوئے دھوپ میں پھینک دیا۔۔۔اس کے چہرے پر لکیریں اور خراشیں ابھر آئیں۔۔۔آیا جی نے صفائی ستھرائی کے دوران اسے اٹھا کر چھجے کی طرح سامنے کی طرف نکلی ہوئی جالی دار گیلری میں لٹکی ٹوکری میں اڑس دیا۔۔۔اسے وہاں پڑے مدتیں ہوئیں۔۔۔کھلے آسمان تلے ہوائیں جھلتیں۔۔۔آندھی آتی ۔۔بارش برستی۔۔اب اس پر جمی ہوئی کالی تہوں کا رواں رواں یوں لگتا تھا۔۔۔۔جیسے فیکٹریوں اور کارخانوں کا کالا دھواں اسے اپنا مسکن بنا کر پھاگ کھیل رہا ہو۔مجھے بیٹھے بیٹھے ایک دن خیال آیا ۔۔۔۔۔سوچا آج اس کو صاف کر کے اپنے کمرے میں کھڑکی کے ساتھ پڑی۔۔۔پرانی کھٹ کے اوپر طاق میں سجا دیتی ہوں۔۔۔بھاگی بھاگی بالکنی میں گئی۔۔۔اس کے اوپری حصے پر لگی پلاسٹک اکھڑ کر ٹوٹ گئی تھی۔۔۔پرندوں کی بیٹیں, تنکے,کھٹمل کی قے,الو کے تھوک,مٹی,سورج کی تپتی شعاعوں اور بارش کے کیمیائی آنسوؤں نے اس کی چمکدار پرت کو اینٹوں کے پٹھے کی اندرونی تہ جیسا بنا چھوڑا تھا۔۔۔میں بضد تھی۔۔۔۔مجھے سالوں پرانا نیا آئینہ ہی چاہیے تھا۔۔۔جیسا ہمسائی کے آنگن میں تھا۔۔۔اب لوہے کی سل سے کسی جغادری کی طرح کھرچنا شروع کیا۔۔۔کالک میں ایک لکیر ابھری۔۔۔پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تڑک گیا۔۔۔ٹوٹ گیا۔۔۔۔آنکھوں میں آنسو موتیوں کی طرح چمکنے لگے۔۔۔۔طبع تلچھنے لگی۔۔۔۔مجھے وہ کبھی نہیں ملا جس کو چاہا۔۔۔میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟؟؟دل چاہا اس کو کسی صندوقچے کے پوشیدہ خانے میں پھینک دوں۔

نوٹ: یہ ایک علامتی افسانہ ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی دل پر غموں اور گناہوں کے کالے نشان پڑتے جاتے ہیں۔۔۔جب اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے ۔۔ٹوٹ جاتا ہے۔۔کیوں کہ فوراََ کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔بعض اوقات ہم ان چیزوں کے لیے شکوہ کرتے ہیں۔۔جن کے لیے پریشان ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact