Monday, May 27
Shadow

Author: editor

معظمہ نقوی کی “آخری بارش” کا تنقیدی جائزہ۔ شفیق مراد 

معظمہ نقوی کی “آخری بارش” کا تنقیدی جائزہ۔ شفیق مراد 

آرٹیکل
شفیق مراد معظمہ نقویؔ کا پہلا شعری مجموعہ تخیل کے آسمان سے اترنے والی بارش کا پہلا قطرہ ہے جو اپنے اندر سوز وسازِ زندگی بھی رکھتا ہے اور شاعرہ کی ریاضت،مشاہدات اور تجربات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔وہ ماضی،حال اور مستقبل کے لیے موجِ نور کا کام کرتا ہے۔ وہ بارش کے اس پہلے قطرے سے اُس آخری بارش کی متمنی ہے جو علم و معرفت سے بنجر زمین کو جل تھل کر دے۔ ذرّے ذرّے سے مسرت و شادمانی کی شعاعیں ماحول کومنور کریں اور گردشِ وقت کے محراب سے امن و آشتی کے نغمے بلند ہوں۔ اور پھر آسمان پرقوسِ قزح سے نکلنے والی  رنگ ونور کی شعاعیں دنیا کی تاریکیوں کو مٹا دیں۔ایک نئی زندگی جنم لے جس میں علم و آگہی کے چراغ روشن ہوں۔ اور معرفت کے چشمے دل اور ذہن کو سیراب کریں اور انسانیت کومعراج نصیب ہو۔        کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی شاعری اس کے عالم ارواح سے عالم وجود کے سفر کی پہلی منزل ہے جس میں سفر کی صعوبتیں...
اطہر کی  خوشی، ام محمد عبداللہ

اطہر کی  خوشی، ام محمد عبداللہ

آرٹیکل
ام محمد عبداللہ آج اطہر بہت خوش تھا۔ اسکول سے بھی جلدی چھٹی ہو گئی تھی۔ وہ تیز تیز چلتا گھر کی جانب آ رہا تھا۔ خوشی سے سر اٹھا کر کبھی وہ   نیلے آسمان پر نگاہ کرتا تو  سفید سفید بادلوں کی بکھری ٹکڑیاں اسے ایسے محسوس ہوتیں جیسے آسمان پر سفید پروں والے گھوڑے اڑ رہے ہوں۔  راستے میں پھولوں کا ایک باغ بھی آتا تھا۔ جس میں ہر رنگ کے پھول کھلے ہوتے تھے۔ نیلے پیلے ہرے گلابی سرخ سفید اور کالے بھی... اطہر جب باغ کے قریب سے گزرا تو پھولوں کی خوشبو سے جھوم اٹھا۔ اس نے مالی بابا سے پوچھ کر سفید موتیے کے بہت سے پھول توڑ کر اپنے رومال میں حفاظت سے رکھے۔ گھر پہنچتے ہی وہ سارے پھول اس نے نور آپی کو دے دئیے تھے۔”نور آپی! امی جان کے لیے ان کا گجرا بھی بنانا اور کانوں کی بالیاں بھی۔“ اس نے چپکے سے نور آپی کو کہا سب سے بڑھ کر آج گھر پہنچتے ہی اسے دن کے کھانے کی بالکل فکر نہیں تھی اسے...
ناول : دھندلے عکس تاثرات : محمد احسان

ناول : دھندلے عکس تاثرات : محمد احسان

تبصرے
تحریر : کرن عباس کرن  تاثرات : محمد احسان بی ایس اردو میقات ششم اردو ادب کے شجرِ سایہ دار میں ناول کو اہم مقام حاصل ہے ۔دیگر چند  اصناف کی طرح یہ صنف بھی ہم نے مغرب سے مستعار لی ہے، لیکن ہمارے ہاں کچھ شخصیات نے اس صنف  پر ایسے کام کیا کہ اہل مغرب بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ ناول درحقیقت کہانی بیان کرنے کا ایسا منفرد انداز ہے جس میں انسانی زندگی کی عکاسی کی جاتی ہے۔ اور ناول نگار زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مکمل اور گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد ایک خاص طریقے اور سلیقے سے اپنے  تجربات و مشاہدات کو کہانی کے روپ میں پیش کرتا ہے ۔ ناول دھندلے عکس پڑھا تو بہت خوشی ہوئی کہ آج اکیسویں صدی کا قلم کار بھی کامیابی کے ساتھ دورِ حاضر کے سماجی و معاشرتی موضوعات کے ساتھ ساتھ، معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی نفسیات اور جذبات کی ترجمانی بھی کمال مہارت کے ساتھ کرتا ہے۔ اس ناول میں جہا...

ناول: زندگی ذرا ٹھہرو۔ تبصرہ نگار : پروفیسر خالدہ پروین 

تبصرے
مصنفہ۔۔۔ عطیہ ربانی تبصرہ نگار : پروفیسر خالدہ پروین  اس مادی دنیا میں  زندگی اور لوازماتِ زندگی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ انسان  تبدیل شدہ حالات کے پیشِ نظر قیاس آرائی سے کام لیتے ہوئے ایک را ئے قائم کر لیتا ہے جو کبھی صرف انفرادی حیثیت کی حامل ٹھہرتی ہے اور بعض اوقات  وسعت اختیار کرتے ہوئے ایک ہجوم کے نعرے کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔  قلم و قرطاس سے متعلقہ افراد میں اکیسیوی صدی کے آغاز سے ہی ایسی ہی ایک آواز نے ہلچل مچا دی۔ یہ آواز تھی         "یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی"   انسانی فطرت ہے کہ ایسی کسی بھی صورت حال میں  بھرپور ردِعمل کا اظہار کرتا ہے جس کی نوعیت منفی بھی ہوسکتی ہے اور مثبت بھی۔ لہذا اس نعرے کے بلند ہونے کی دیر تھی کہ چاروں طرف سے کتابوں کی اشاعت کے سلسلے نے زور پکڑ لیا۔ مختلف شعبہ ہائے جات میں س...
چائے کا عالمی دن، تحریر: نصرت نسیم

چائے کا عالمی دن، تحریر: نصرت نسیم

آرٹیکل
تحریر: نصرت نسیم جب اترتی ہیں میرے دل میں پرانی یادیںکتنی بچھڑی ہوئی کونجوں کی صدا آتی ہےدو دن پیشتر چاے کا عالمی دن دوستوں نے بڑی چاہ سے منایا۔اور طرح طرح کے بڑے بڑے باتصویر کپ اور چینکوں کی تصویریں لگائیں۔ہم دیکھتے رہے لطف اندوز ہوتے رہے۔کچھ لکھنے کا ارادہ ہرگز نہ تھا۔مگر آج دوپہر بیٹھے بیٹھاے کتنی یادوں نے در دل پر دستک دی۔چاے کے ساتھ چاہت اور محبت والے کتنے رشتے، کتنے مہربان چہرے یاد آے۔اور یادوں کے کتنے چراغ روشن ہوتے چلے گئے۔ہمارے جنت مکانی ڈیڈی کے لئے چاے بہت اہتمام، چاہ اور چینی کے خاص ٹی سیٹ میں پیش کی جاتی تھی۔وہ ہمیشہ سیپریٹ چاے پسند کرتے تھے۔یعنی قہوہ، دودھ، چینی الگ الگ پیش کی جاتی۔فجر کی نماز کے فورا"بعد ایک چھوٹی طشتری میں منے سے ٹی سیٹ میں چاے ان کی میز پر رکھ دی جاتی۔انگلینڈ کابنا چینی کایہ منا سا سیٹ مجھے خاص طور پر پسند تھا۔ڈیڈی نماز پڑھتے تو پھپھو اماں چاے کے قہوے ک...
ارشد ابرار ارش کی  “ریز گاری”، تاثرات: خالد فتح محمد

ارشد ابرار ارش کی  “ریز گاری”، تاثرات: خالد فتح محمد

تبصرے
خالد فتح محمد، گوجرانوالہکچھ عرصہ ہوا کہ ارشد ابرار ارش نے میرے ساتھ اپنے افسانوی مجموعے پر رائے کے لیے رابطہ کیا اور میں نے حامی بھر لی لیکن دوران گفتگو معلوم پڑا کہ ہمارے ایک اہم super impose افسانہ نگار کی رائے لے لی گئی ہے تو میں نے معذرت کر لی کہ میں کسی بھی طرح اپنی رائے نہیں کرنا چاہتا تھا۔  مجھ تک خبر پہنچی کہ ارشد کا افسانوی مجموعہ چھپ گیا ہے جس کی مجھے خوشی ہوئی اور میں اپنے انکار کی وجہ سے ایک بوجھ تلے بھی تھا اور ارشد کا مجھ پر قرض واجب الادا بھی تھا سو میں نے پبلشرز کا معلوم کرکےپریس فار پیس پبلی کیشنز کے ظفر اقبال صاحب سے رابطہ کیا۔ ان کا از حد شکر گزار ہوں کہ مجھے تین دنوں کے اندر اعزازی طور پر کتاب بھیج دی۔     ارشد ایک نیا اور نوجوان لکھنے والا ہے۔ میں اسے فکشن کے بڑے اور وسیع کنبے میں خوش آمدید کہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ ایک ڈسپلن کے...
بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد،کراچی  (پاکستان)

بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد،کراچی  (پاکستان)

رائٹرز
مصنفہ کا قلمی نام بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد ہے۔ حلقۂ احباب میں ابھی بھی بنتِ کمال شہود کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ بنتِ تاجور کے نام سے *ماہنامہ فہم دین* میں گزشتہ ایک سال سے متواتر سپر ہیروز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیریز لکھ رہی ہیں۔ روشنیوں کے شہر کراچی میں گزشتہ 26 سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔ وہ اُردو اَدب کے مشہور و معروف سیرت نگار، مؤرخ اور مصنف علامہ سید سلیمان ندوی کی رشتے میں نواسی ہوتی ہیں۔ مسلسل کوشش اور محنت سے جانب منزل رواں دواں ہوئیں اور لکھنے کا سلسلہ 2018ء سے تاحال جاری ہے۔وہ شعبہ درس و تدریس سے وابستہ امت محمدیہ کا درد رکھنے والی مصنفہ ہیں۔ ہر عمر کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے فعال اور متحرک ہیں۔ آپ بچوں کے لیے آیت کہانیاں، سنت و حدیث کہانیاں ، اصلاحی و اخلاقی کہانیاں، حکایت کہانیاں، جنگل کہانی سیریز، کہاوت محاورے کہانیاں ، جذبۂ حب الوطنی کو بڑھاتی کہانیاں ، آ...
منظور اے خان: مصنف، محقق اور مترجم

منظور اے خان: مصنف، محقق اور مترجم

Writers, رائٹرز
جناب منظور اے خان پہلے شخص ہیں جنھوں نے ابیات سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا انگریزی منظوم ترجمہ کیا اور تصانیف حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا فارسی و اردو سے انگریزی میں ترجمے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ محترم ناول "راستی کا راستہ "کا ایک بہت مضبوط کردار ہیں۔
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact