Monday, May 27
Shadow

Author: editor_1

سمندر کا بدلتا رنگ: موسمیاتی تبدیلی کا ایک خطرناک نشان

سمندر کا بدلتا رنگ: موسمیاتی تبدیلی کا ایک خطرناک نشان

آرٹیکل
تحریر : مظہراقبال مظہر سمندر کا نیلا رنگ جب آپ سمندر کی تصویر یا نقشہ دیکھتے ہیں توآپ کو نیلا یا فیروزی رنگ دکھائی دیتا ہے۔ اور اگر آپ کسی صاف وشفاف سمندر کے کنارے پرموجود ہوں تو آپ کو سمندر کے پانی کاحقیقی رنگ بھی نیلا ہی دکھائی دے گا۔ درحقیقت جس طرح سے پانی سورج کی روشنی کے ساتھ ملتا ہے اس کی وجہ سے سمندر نیلا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک سائنسی عمل ہے جس میں  سورج کی روشنی توانائی کی ایک  لہر کی شکل میں زمین تک پہنچتی ہے۔ اس میں رنگوں کا ایک پورا سپیکٹرم ہوتا ہے، جسے ہم سفید روشنی کا نام دے سکتے ہیں۔ رنگ میں تبدیلی کی وجوہات جب سورج کی یہ سفیدی مائل روشنی پانی میں داخل ہوتی ہے، تو پانی کے مالیکیول روشنی کے اسپیکٹرم کے سرخ حصے میں  سےکچھ رنگوں کو دوسروں سے زیادہ جذب کرتے ہیں۔ وہ باقی رنگ، جو عام طور پرسپیکٹرم کے نیلے سرے پر ہوتے ہیں (نیلے، سبز اور بنفشی)، پ...

کوئٹہ کتاب میلے کی روداد، عالیہ بٹ کے قلم سے

آرٹیکل
یقیناً آپ سب کو کوئٹہ میں منعقد ہونے والے میلے کی روداد کا انتظار ہو گا تو ذرا تھوڑا سا اور حوصلہ۔ ۔۔ تین دنوں کی کمر توڑ تھکن اتر لینے دیجیے ۔ تھکن تو ابھی بھی باقی ہے ۔ مگرمزید انتظار کی زحمت نہیں دوں گی ،  تو پڑھیے! پریس فار پیس کا مشن ہی بھلائی اور معاشرے میں گرتے ہوئے لوگوں کو سہارا دینا اور انہیں ایک روشن مستقبل دلانا ہے۔ میں دین و ادب کو قائم رکھنے والی شخصیات کی بہت قدر کرتی ہوں، میری نظر میں وہ نایاب گوہر اور روشن ستارے ہیں اور پریس فار پیس کے تمام کارکن  بھی روشن ستاروں کی مانند ہیں جو پریس فار پیس کے آسمان پہ جگمگا رہے ہیں، جنہوں نے کتابوں کی دنیا بنانے اور بسانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ تو جناب!آخر وہ دن آ ہی گیا۔ میں عالیہ بٹ پریس فار پیس کے پلیٹ فارم پر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ میں منعقد ہونے والے کتب میلے میں...
Pakistan: A Lucrative Hub for Green Investments

Pakistan: A Lucrative Hub for Green Investments

Article, Opinion
Pakistan is rapidly becoming a hot destination for investors focused on environmental sustainability. This surge in interest is driven by three key factors: strong government support for green initiatives, the country's vulnerability to climate change, and a significant funding gap that needs to be filled. Government Backs Green Agenda The Pakistani government is actively promoting green investments through various policies and international collaborations. The Nationally Determined Contributions (NDCs) showcase Pakistan's commitment to reducing greenhouse gas emissions and adapting to climate change. Additionally, the Green Framework Engagement Agreement with Denmark highlights their pursuit of international partnerships for a sustainable future. Danida Sustainable Infrastr...
لند ن کا بدلتا موسم | مظہر اقبال مظہر

لند ن کا بدلتا موسم | مظہر اقبال مظہر

آرٹیکل
برطانوی سماج میں پیشین گوئیوں کا چرچا رہتا ہے۔عوام کی صحت کی حفاظت پر مامور ایک ادارے نے سنہ 2060 تک لندن جیسے بھرے پُرے رونق والے شہر پر موسمیاتی تبدیلی کے سنگین مضمرات کی پیشین گوئی کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے۔ اس پیشین گوئی کا لب لباب یہ ہے کہ بدلتی ہوئی آب و ہوا کا مملکت کی صحت پر اثر نہ بھی ہو عوام الناس کی صحت پریہ اثر ضرور پڑے گا۔ گویا یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ عنقریب خوشحال ملکوں میں بھی آب و ہوا کی خرابیوں کا تماشہ عروج پر ہوگا۔ اور یہاں کا سماجی ماحول جو موسم کے دلفریب مزاج سے جان پکڑتا ہے اسے بھی نظر لگ سکتی ہے۔ کون جانے کل یہاں بھی کرسمس کا تہوار چلچلاتی دھوپ کی نظر ہوجائے اور سانتا کلاز نیکر اور بنیان پہنے آپ کے لان میں قلفیوں کی ریڑھی کے ساتھ ہاتھ کا پنکھا جھلات ہوا نظر آجائے۔ مذکورہ بالا رپورٹ میں لکھا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں لندن کے باسیوں کی صحت پر...
لندن کے نیم آبی چوہے | مظہر اقبال مظہر

لندن کے نیم آبی چوہے | مظہر اقبال مظہر

آرٹیکل
لندن کے نیم آبی چوہےواپس آرہے ہیں۔ تحریر:  مظہر اقبال مظہر : مغرب کو معاشی خودکفالت اور صنعتی ترقی کی دوڑ نے ماحولیاتی تباہی کی جس ڈگر پر ڈالا تھا اس ڈگر پر چل کر وہ واپس فطرت کے قریب جانا چاہتا ہے۔ چار سو سال قبل لندن کے رہائشیوں نے جن نیم آبی چوہوں کو مار مار کر ختم کردیا تھا اب ان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر واپس لایا جار ہا ہے۔  بیور نامی یہ نیم آبی چوہے کسی زمانے میں پورے برطانیہ میں پائے جاتے تھے۔ لیکن 16ویں صدی میں ان کی کھال، گوشت اور غدودوں میں موجود خوشبودار تیل کی وجہ سے ان کا شکار کیا جاتا تھا، جو ادویات اور پرفیوم میں استعمال ہوتا تھا۔ دولت کی ہوس کے نتیجے میں لندن کے قدرتی ماحول کے محافظ یہ آبی انجینئرز برطانیہ سے ناپید ہوگئے تھے مگر کینیڈا، پولینڈ، جرمنی، فرانس، وسطی روس اور جنوبی اسکینڈینیویا جیسے ممالک میں آج بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔  یہ زمین پر دوسر...
شعائراللہ کا مذاق | حمیراعلیم

شعائراللہ کا مذاق | حمیراعلیم

آرٹیکل
حمیراعلیم آج کل فیس بک اور ٹونٹر پر کچھ ایسی پوسٹ پڑھنے کو ملتی ہیں۔جنہیں پڑھ کرحیرت ہوتی ہے نہ غصہ آتا ہے۔ بلکہ لکھنے والوں پر ترس آتا ہے ہمدردی ہوتی ہے کہ ہم امت محمدیہ جنہیں امت وسط کہا گیا ہے جن پر اسلام کو دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے خود اسلام سے ہمارا دور دور تک واسطہ نہیں تو دوسروں کو کیا بتائیں گے۔ یوں تو ہمارے ہاں کے تعلیمی ادارے تعلیم کے علاوہ سب کچھ ہی پڑھا رہے ہیں ہر وہ حرام کام سکھا رہے ہیں جو اسلام میں ممنوع ہے لیکن لمز یونیورسٹی ان سب خرافات میں نمبر ون ہے۔کبھی انڈین موویز کے کریکٹرز بن کر لڑکے لڑکیاں ہندووں کا روپ دھارے یونیورسٹی میں ناچتے اور ہولی مناتے نظر آتے ہیں توکبھی اسٹوڈنٹس کی جعلی شادی کرتے۔ نکاح ایک مقدس فریضہ اور سنت رسول ہے۔ جس کا ذکر متعدد بار قرآن کریم میں آیا ہے یوں یہ شعائر اللہ میں سے ایک ہے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم نے داڑھی، پردے، پابند...
اما م اعظم ابو حنیفہ اور آپکی فقہی بصیرت | محمدبرہان الحق

اما م اعظم ابو حنیفہ اور آپکی فقہی بصیرت | محمدبرہان الحق

آرٹیکل
محمد برہان الحق نام :۔نعمان بن ثابت، کنیت :۔ابو حنیفہ، لقب :۔امام اعظم، ولادت:۔امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 80 ہجری کو کوفہ میں ہوئی۔ حضور ؐ کی بشارت:۔ جس دور میں امام اعظم پروان چڑھے علم زیادہ تر موالی میں پایا جاتا تھا وہ نسبی فخر سے محروم تھے خدا نے انھیں علم کا فخر عطاء کیا تھا جو سب کے مقابلے میں زیادہ مقدس اور زیادہ پھیلنے پھولنے والا زیادہ پائیدار نام زندہ رکھنے والا تھا رحمت عالم ؐ کی یہ پیشن گوئی سچی ثابت ہوئی کہ اولاد فارس علم کی حامل ہوگی امام بخاری و مسلم وشیرازی و طبرانی کے الفاظ یہ ہیں-لو کا ن العلم معلقاعند الثریا تناولہ رجال من ابناء الفارس (ترجمہ ) اگر علم کہکشاں تک بھی پہنچ جائے تو اھل فارس کے کچھ لوگ اسے حاصل کر کے رھیں گے- تحصیل علم کی طرف توجہ اور تعلیم و تربیت:۔ امام اعظم کی آنکھ کھلی تو انہوں نے مذاھب وادیان کی دنیا دیکھی غور و ف...
دو قومی نظریہ کی حقانیت کا فیصلہ کن دن |  ڈاکٹرساجد خاکوانی

دو قومی نظریہ کی حقانیت کا فیصلہ کن دن |  ڈاکٹرساجد خاکوانی

آرٹیکل
ڈاکٹرساجد خاکوانی معلوم تاریخ میں سترہ رمضان المبارک 2ھجری میدان بدر وہ پہلا موقع تھا جب دوقومی نظریہ وجودمیں آیا تھا۔اس دن ایک ہی نسل،ایک ہی قوم،ایک ہی زبان،ایک ہی علاقے اور ایک ہی تہذیب و تمدن و معاشرت و مشترک تاریخ رکھنے والے صرف نظریےکی بنیاد پر باہم برسر پیکار تھے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ عقیدہ کی قوت رگوں میں بہنے والے خون سے کہیں زیادہ طاقتورہوتی ہے۔اسی عقیدے نے حضرت نوح علیہ السلام اوران کے بیٹے کے درمیان حدفاصل قائم کردی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے والد کے درمیان بھی دوقومیتوں کا تعین کرنے والا فیصلہ کن عنصر عقیدہ ہی تھا۔ ماضی قریب میں یہ نظریہ انیسویں صدی کےوسط میں فکری طاقت کے ساتھ ایک بار قرطاس تاریخ پر نمودارہوااور اس کی گونج شرق و غرب میں سنائی دینے لگی۔1917ءمیں مذہب کا اختلاف ہوتے ہوئے روس کی ریاستیں باہم ایک ہو گئیں تویہ عقیدہ ہزیمت کا شکار ہوگیا۔1947ء میں...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact