غزل 

فاروق صابر

تاریک ہیں حالات ذرا دیکھ کے چلنا

ہر آن ہیں خطرات ذرا دیکھ کے چلنا

یہ راہِ محبت ہے میاں کیسی مسّرت؟ 

ہر گام ہیں صدمات ذرا دیکھ کے چلنا

اِک شہر خطرناک ہے پھر چاروں طرف سے

پڑتے ہیں مضافات ذرا دیکھ کے چلنا

اے عشق تُو اس دشت میں تنہا تو نہیں ہے

میں بھی ہوں ترے ساتھ ذرا دیکھ کے چلنا

تقدیس لبادے میں ہے کردار میں تلبیس

دنیا ہے یہ کم ذات ذرا دیکھ کے چلنا

نادان مشینوں کو خدا مان رہے ہیں

معبود ہیں آلات ذرا دیکھ کے چلنا

مجبور ہیں حالات کے مارے ہوۓ مزدور

گھر اُن کا ہے فٹ پاتھ ذرا دیکھ کے چلنا

وہ جبر مسلسل ہے کہ ہر آنکھ ہے پُرنم

اشکوں کی ہے برسات ذرا دیکھ کے چلنا

لازم ہے کہ بدلے گا یہ دستور بھی صابر

بدلیں گے یہ دن رات ذرا دیکھ کے چلنا

Discover more from Press for Peace Publications

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact